اہم حقائق
- قیام
- 25 ستمبر 1969ء، رباط کانفرنس میں
- سبب
- ایک ماہ قبل مسجد اقصیٰ (المسجد الأقصى) میں آتشزدگی
- ارکان
- 57 ممالک: افریقہ، ایشیا، یورپ اور جنوبی امریکہ
- صدر دفتر
- جدہ (جدة)، جسے منشور میں عارضی قرار دیا گیا ہے
- نام کی تبدیلی
- 2011ء میں "اسلامی کانفرنس" سے "تعاون اسلامی"
- حیثیت
- اقوامِ متحدہ کے بعد سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم
فہرست
یہ تنظیم کیوں بنی
21 اگست 1969ء کو بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ (المسجد الأقصى) کے اندر آگ لگا دی گئی، جس سے وہ منبر بھی جل گیا جو نور الدین زنگیؒ نے تیار کروایا تھا اور صلاح الدین ایوبیؒ نے فتحِ بیت المقدس کے بعد وہاں نصب کیا تھا۔ ردِعمل فوری تھا: اگلے ہی مہینے سربراہانِ مملکت رباط میں جمع ہوئے اور 25 ستمبر 1969ء کو یہ تنظیم قائم ہوئی۔
یہی پس منظر آج تک تنظیم کی شکل متعین کرتا ہے۔ بیت المقدس اور فلسطین اس کے کئی موضوعات میں سے ایک موضوع نہیں بلکہ اس کے مقصد کا حصہ ہیں، اور منشور میں جدہ (جدة) کے صدر دفتر کو عارضی کہا گیا ہے، اس دن تک کے لیے جب تنظیم القدس میں بیٹھ سکے۔ پہلی اور دور والی مسجد، دونوں کا ذکر قرآن نے ایک ہی آیت میں کیا ہے: سورۃ الاسراء 17:1۔
اس سے پہلے کیا تھا
یہ امتِ مسلمہ کو ایک میز پر لانے کی پہلی کوشش نہ تھی۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد 1926ء میں مکہ مکرمہ (مكة) میں مؤتمر عالمِ اسلامی منعقد ہوا، جس میں یہی سوال زیرِ بحث آیا کہ اب امت کی نمائندگی کون کرے گا۔ 1931ء میں بیت المقدس میں مؤتمرِ اسلامی عام ہوا، جو فلسطین کے مستقبل پر بلایا گیا تھا اور جس میں علامہ محمد اقبالؒ نے شرکت کی۔ 1962ء میں مکہ مکرمہ ہی میں رابطہ عالمِ اسلامی قائم ہوا، جو غیر سرکاری ادارہ تھا۔
یہ سب کوششیں یا تو علمی تھیں یا مشاورتی۔ 1969ء نے جو چیز ان میں شامل کی وہ ریاستیں تھیں: سربراہانِ حکومت، ایک مستقل سیکرٹریٹ، اور ایک تحریری منشور۔ یہی فرق ہے ایک کانفرنس اور ایک تنظیم میں، اور یہی وجہ ہے کہ OIC قائم رہی جبکہ پہلی کوششیں یا ختم ہو گئیں یا حکومتی سطح سے باہر ہی رہیں۔
ڈھانچہ
موجودہ منشور 2008ء میں ڈاکار میں منظور ہوا، جس نے 1972ء کے اصل متن کی جگہ لی۔ 2011ء میں آستانہ کے اجلاس میں نام "اسلامی کانفرنس تنظیم" سے بدل کر "تنظیم تعاون اسلامی" رکھا گیا، یعنی زور مشاورت سے ہٹ کر مشترکہ عمل پر آ گیا۔
- اسلامی سربراہی کانفرنس۔ ارکان: تمام 57 رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت۔ ہر تین سال بعد اجلاس؛ سب سے بالا اختیار۔
- وزرائے خارجہ کونسل۔ ارکان: تمام 57 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ۔ یہ کوئی چھوٹی منتخب کمیٹی نہیں، پوری رکنیت اس میں شامل ہے۔ سالانہ اجلاس، جس میں عملی ایجنڈے کا بڑا حصہ طے پاتا ہے۔
- جنرل سیکرٹریٹ۔ مستقل ادارہ اور تنظیم کا انتظامی مرکز، جدہ (جدة)، سعودی عرب میں۔ سربراہ سیکرٹری جنرل ہوتا ہے، جسے وزرائے خارجہ کونسل پانچ سال کے لیے منتخب کرتی ہے (ایک بار توسیع ممکن)۔ 1980ء کی دہائی میں پاکستان کے سید شریف الدین پیرزادہ اس منصب پر فائز رہے۔
فیصلے اکثریتِ رائے کے پابند کرنے والے طریقے سے نہیں بلکہ اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں۔ یہی بات تنظیم کی وسعت کا سبب بھی ہے اور اس پر ہونے والی سب سے عام تنقید کی جڑ بھی: قراردادیں منظور کرنا آسان ہے، نافذ کروانا مشکل۔
مستقل کمیٹیاں اور ان کی صدارت
سربراہی کانفرنس کے نیچے چار مستقل کمیٹیاں کام کرتی ہیں، اور تنظیم کا موضوعاتی کام دراصل انہی میں ہوتا ہے۔ ہر کمیٹی کی صدارت باری باری نہیں بدلتی بلکہ ایک متعین سربراہِ مملکت کے پاس مستقل رہتی ہے۔ یہی بات ان کمیٹیوں کو دو اجلاسوں کے درمیان تسلسل دیتی ہے۔
| کمیٹی | مستقل صدر | میدان | مرکز |
|---|---|---|---|
| القدس کمیٹی | فرماں روائے مراکش | بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ | رباط |
| کومسیک (COMCEC) | صدرِ ترکیہ | معاشی و تجارتی تعاون | انقرہ |
| کامسٹیک (COMSTECH) | صدرِ پاکستان | سائنس و ٹیکنالوجی | اسلام آباد |
| کومیاک (COMIAC) | صدرِ سینیگال | اطلاعات و ثقافت | ڈاکار |
دو مزید ادارے قابلِ ذکر ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی اجلاسوں کے درمیان کے معاملات دیکھتی ہے، اور 2008ء کے منشور کے تحت قائم ہونے والا "مستقل خودمختار کمیشن برائے حقوقِ انسانی" جدہ (جدة) میں ہے، جو رکن ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹ دیتا ہے۔
صدر دفتر کہاں ہے، اور باقی سب کہاں
صدر دفتر جنرل سیکرٹریٹ ہے، جو جدہ (جدة)، سعودی عرب میں واقع ہے۔ منشور میں اسے عارضی قرار دیا گیا ہے: مستقل مرکز القدس (القدس) طے پایا ہے، اور اُس وقت تک یہ ذمہ داری جدہ کے پاس ہے۔ باقی ادارے جان بوجھ کر ایک ہی دارالحکومت میں جمع کرنے کے بجائے مختلف رکن ممالک میں پھیلائے گئے ہیں۔
| شہر | وہاں کیا ہے |
|---|---|
| جدہ | جنرل سیکرٹریٹ (صدر دفتر)، اسلامی ترقیاتی بینک، مجمع الفقہ الاسلامی، اسلامی فنڈ برائے یکجہتی، کمیشن برائے حقوقِ انسانی |
| رباط | آئیسیسکو، بیت مال القدس، القدس کمیٹی |
| استنبول | ارسیکا (IRCICA)، ایس ایم آئی آئی سی (SMIIC) |
| انقرہ | سیسرک (SESRIC)، کومسیک (COMCEC) |
| اسلام آباد | کامسٹیک (COMSTECH) |
| ڈاکار | کومیاک (COMIAC) |
اہم سنگِ میل
| سال | کیا ہوا |
|---|---|
| 1969ء | رباط میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس، مسجد اقصیٰ کی آتشزدگی کے چند دن بعد |
| 1970ء | جدہ میں وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس؛ جنرل سیکرٹریٹ کا قیام |
| 1972ء | بنیادی منشور کی منظوری |
| 1974ء | لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس، اُس وقت تک کا سب سے بڑا اجتماع |
| 1975ء | اسلامی ترقیاتی بینک کا آغازِ کار؛ القدس کمیٹی کا قیام |
| 1979ء | کیمپ ڈیوڈ کے بعد مصر کی رکنیت معطل؛ 1984ء میں بحال |
| 1981ء | جدہ میں مجمع الفقہ الاسلامی الدولی کا قیام |
| 2005ء | مکہ مکرمہ میں غیر معمولی اجلاس، دس سالہ لائحہ عمل کی منظوری |
| 2008ء | ڈاکار میں نیا منشور، جس نے 1972ء کے متن کی جگہ لی |
| 2011ء | آستانہ میں نام کی تبدیلی: تنظیم تعاون اسلامی |
| 2017ء | بیت المقدس کی حیثیت پر استنبول میں غیر معمولی سربراہی اجلاس |
لاہور، 1974ء
فروری 1974ء میں لاہور میں ہونے والی دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس وہ موقع تھا جس نے اس تنظیم کے بارے میں عام تاثر کو سب سے زیادہ بدلا۔ اس میں مسلم سربراہانِ مملکت کا اُس وقت تک کا سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ یہ 1973ء کی جنگ اور تیل کی پابندی کے فوراً بعد کا زمانہ تھا، جب رکن ممالک کے پاس کچھ عرصے کے لیے حقیقی معاشی وزن آ گیا تھا۔
اس اجلاس نے امت کا ایک اندرونی زخم بھی سمیٹا۔ پاکستان نے اسی موقع پر بنگلہ دیش کو تسلیم کیا، اور دونوں ملکوں کے سربراہ اُس جنگ کے تین سال بعد ایک ہی ہال میں بیٹھے جس نے انہیں جدا کیا تھا۔ اجلاس نے اور جو کچھ بھی طے کیا ہو، تنظیم کے اپنے نام کے مطابق کام کرنے کی سب سے واضح مثال یہی ہے۔
القدس کمیٹی
چونکہ بیت المقدس ہی اس تنظیم کے وجود کا سبب ہے، اس لیے اس کے لیے الگ مستقل ادارہ موجود ہے۔ القدس کمیٹی 1975ء میں قائم ہوئی تاکہ شہر اور مسجد اقصیٰ (المسجد الأقصى) کی صورتحال پر نظر رکھی جائے، اور اس کی صدارت شروع سے مراکش کے فرماں روا کے پاس ہے۔ اس کا مالیاتی بازو "بیت مال القدس" رباط میں ہے، جو اہلِ بیت المقدس کے لیے رہائش، تعلیم، صحت اور مرمت و بحالی کے کاموں میں معاونت کرتا ہے۔
یہی کمیٹی اس بات کی ضمانت ہے کہ بیت المقدس کا معاملہ کبھی ایجنڈے سے نہیں ہٹتا۔ تنظیم کی کارکردگی پر باقی جو بھی تنقید ہو، کوئی سربراہی اجلاس اُس سوال کی طرف لوٹے بغیر ختم نہیں ہوتا جس پر یہ قائم ہوئی تھی۔
اس کے قائم کردہ ادارے
تنظیم صرف اجلاسوں کا نام نہیں۔ اس کے تحت کئی مستقل ادارے قائم ہوئے، اور عملی کام کا بڑا حصہ انہی میں ہوتا ہے۔
| ادارہ | قیام | مرکز | میدان |
|---|---|---|---|
| اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) | 1975ء | جدہ | ترقیاتی، منصوبہ جاتی اور تجارتی مالیات |
| آئیسیسکو (سابق ISESCO) | 1982ء | رباط | تعلیم، سائنس اور ثقافت |
| ارسیکا (IRCICA) | 1979ء | استنبول | اسلامی تاریخ، فن اور ثقافت |
| سیسرک (SESRIC) | 1978ء | انقرہ | شماریات، معاشی و سماجی تحقیق |
| مجمع الفقہ الاسلامی الدولی | 1981ء | جدہ | اجتماعی فقہی فیصلے |
| اسلامی فنڈ برائے یکجہتی | 1974ء | جدہ | امداد، مساجد، مدارس اور ہسپتال |
معیارات کا کام بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ 2010ء سے استنبول میں قائم ادارہ SMIIC حلال اور پیمائش کے مشترکہ معیارات مرتب کرتا ہے، جنہیں رکن ممالک اپنا سکتے ہیں۔ یہ اُن چند شعبوں میں سے ہے جہاں تنظیم کا کام عام خریدار تک پہنچتا ہے۔
شمولیت، معطلی اور مبصرین
کوئی ریاست درخواست دیتی ہے اور وزرائے خارجہ کونسل فیصلہ کرتی ہے۔ رکنیت معطل بھی ہو سکتی ہے: کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد 1979ء میں مصر کی رکنیت معطل ہوئی اور 1984ء میں بحال ہوئی، جبکہ شام کی رکنیت 2012ء سے معطل ہے۔ تنظیم کی دفتری زبانیں عربی، انگریزی اور فرانسیسی ہیں۔
مبصر ممالک اِن 57 میں شمار نہیں ہوتے۔ ان میں بوسنیا و ہرزیگووینا، وسطی افریقی جمہوریہ، روس، تھائی لینڈ اور شمالی قبرص شامل ہیں، اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ، عرب لیگ، افریقی یونین اور تحریکِ عدم وابستگی جیسے ادارے بھی۔ مبصر کو نشست اور بات کہنے کا حق حاصل ہوتا ہے، ووٹ کا نہیں۔
پاکستان اور تنظیم
پاکستان اس تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے اور اس کے چند بڑے اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ 1974ء کی لاہور کانفرنس سب سے نمایاں ہے۔ 1997ء میں اسلام آباد میں ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس ہوا، اور مارچ 2022ء میں وزرائے خارجہ کونسل کا 48واں اجلاس بھی اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
یہ محض میزبانی کی فہرست نہیں۔ ہر بار پاکستان نے اس فورم کو ایسے معاملات اٹھانے کے لیے استعمال کیا جو دوطرفہ سطح پر رکے ہوئے تھے، اور یہی اس نوعیت کے ادارے کا اصل فائدہ ہے: وہ جگہ فراہم کرنا جہاں بات ہو سکے، خواہ فیصلہ نہ ہو سکے۔
تنقید، پوری دیانت کے ساتھ
سب سے عام اعتراض یہ ہے کہ OIC بیانات جاری کرتی ہے، نتائج نہیں دیتی۔ اس کی ٹھوس بنیاد موجود ہے۔ چونکہ فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں، اس لیے جس متن پر 57 حکومتیں متفق ہو سکیں وہ عموماً سب سے کمزور متن ہوتا ہے۔ اور تنظیم کے پاس نفاذ کا کوئی بازو نہیں: نہ کوئی مستقل فوج، نہ لازمی دائرہ اختیار رکھنے والی عدالت، نہ کسی ایسے رکن کو پابند کرنے کا اختیار جو قرارداد کو نظر انداز کر دے۔
رکن ممالک کے آپس کے تنازعات اس کی سب سے واضح مثال ہیں۔ یہ نہ ایران، عراق جنگ روک سکی، نہ کویت پر قبضہ، نہ بعد کے کئی جھگڑے، کیونکہ ہر بار فریق خود اسی میز پر بیٹھے تھے۔
زیادہ متوازن بات یہ ہے کہ یہ تنظیم وہاں کام کرتی ہے جہاں اعلانات کے بجائے پیسہ اور ادارے کام کرتے ہیں۔ اسلامی ترقیاتی بینک اصل منصوبوں کو مالی وسائل دیتا ہے، SESRIC وہ اعداد و شمار تیار کرتا ہے جن پر رکن ممالک منصوبہ بندی کرتے ہیں، مجمع الفقہ کے فیصلے علماء واقعی نقل کرتے ہیں، اور بیت مال القدس بیت المقدس میں اصل عمارتیں بناتا ہے۔ اصل خلا ارادے اور کاغذ کے درمیان نہیں، بلکہ اُس فرق میں ہے جو خودمختار ریاستوں کی انجمن کے "مجبور کرنے" اور "تجویز کرنے" کے اختیار میں ہوتا ہے۔
فہرست کو کیسے پڑھیں
چار باتیں ذہن میں رہیں تو نیچے دی گئی فہرست زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ پہلی: رکنیت کا مطلب مسلم اکثریت نہیں۔ گیبون، گیانا، سورینام، موزمبیق، یوگنڈا، ٹوگو، بینن اور کوٹ ڈی آئیوار ایسے ممالک ہیں جہاں مسلمان اقلیت یا نسبتی اکثریت میں ہیں؛ تنظیم اُن ریاستوں کو شامل کرتی ہے جو وابستگی چاہیں، محض آبادی کے تناسب کو معیار نہیں بناتی۔
دوسری: جغرافیہ اُس سے کہیں وسیع ہے جو "عالمِ اسلام" کہنے سے ذہن میں آتا ہے۔ سب سے بڑا حصہ افریقی ہے، دوسرا ایشیائی، جبکہ البانیا یورپ میں، ترکیہ دونوں براعظموں پر، اور گیانا و سورینام جنوبی امریکہ میں ہیں۔
تیسری: فلسطین اس فہرست میں مبصر نہیں بلکہ مکمل رکن ریاست ہے، اور یہ بات براہِ راست تنظیم کے قیام کے سبب سے جڑی ہوئی ہے۔
چوتھی: فہرست جامد نہیں۔ شام کی رکنیت اگست 2012ء سے معطل ہے، اور جس ملک کا نام یہاں Turkey لکھا ہے وہ اب بین الاقوامی سطح پر "ترکیہ" کہلاتا ہے۔ مبصر ممالک، مثلاً بوسنیا و ہرزیگووینا، روس، تھائی لینڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ، اِن 57 میں شامل نہیں، اُن کا شمار الگ ہے۔
رکن ممالک
تنظیم تعاون اسلامی (منظمة التعاون الإسلامي) کا قیام 1969ء میں ہوا اور یہ اقوامِ متحدہ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے۔ اس کی رکنیت افریقہ، ایشیا، یورپ اور جنوبی امریکہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ 57 رکن ممالک، حروفِ تہجی کی ترتیب سے:
- افغانستان (Afghanistan)
- البانیا (Albania)
- الجزائر (Algeria)
- آذربائیجان (Azerbaijan)
- بحرین (Bahrain)
- بنگلہ دیش (Bangladesh)
- بینن (Benin)
- برونائی دارالسلام (Brunei Darussalam)
- برکینا فاسو (Burkina Faso)
- کیمرون (Cameroon)
- چاڈ (Chad)
- کوموروس (Comoros)
- کوٹ ڈی آئیوار (Côte d’Ivoire (Ivory Coast))
- جبوتی (Djibouti)
- مصر (Egypt)
- گیبون (Gabon)
- گیمبیا (Gambia)
- گنی (Guinea)
- گنی بساؤ (Guinea-Bissau)
- گیانا (Guyana)
- انڈونیشیا (Indonesia)
- ایران (Iran)
- عراق (Iraq)
- اردن (Jordan)
- قازقستان (Kazakhstan)
- کویت (Kuwait)
- کرغزستان (Kyrgyzstan)
- لبنان (Lebanon)
- لیبیا (Libya)
- ملائیشیا (Malaysia)
- مالدیپ (Maldives)
- مالی (Mali)
- موریطانیہ (Mauritania)
- مراکش (Morocco)
- موزمبیق (Mozambique)
- نائجر (Niger)
- نائجیریا (Nigeria)
- عمان (Oman)
- پاکستان (Pakistan)
- فلسطین (Palestine)
- قطر (Qatar)
- سعودی عرب (Saudi Arabia)
- سینیگال (Senegal)
- سیرالیون (Sierra Leone)
- صومالیہ (Somalia)
- سوڈان (Sudan)
- سورینام (Suriname)
- شام (Syria)
- تاجکستان (Tajikistan)
- ٹوگو (Togo)
- تیونس (Tunisia)
- ترکی (Turkey)
- ترکمانستان (Turkmenistan)
- یوگنڈا (Uganda)
- متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates)
- ازبکستان (Uzbekistan)
- یمن (Yemen)
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا OIC اور عرب لیگ ایک ہی چیز ہیں؟
نہیں۔ عرب لیگ کے 22 ارکان ہیں اور اس کی بنیاد عرب شناخت ہے۔ OIC کے 57 ارکان ہیں اور اس کی بنیاد عالمِ اسلام سے وابستگی ہے، اسی لیے انڈونیشیا، پاکستان، نائجیریا، ترکیہ، البانیا اور سورینام اس کے رکن ہیں حالانکہ ان میں سے کوئی عرب ملک نہیں۔ عرب لیگ خود OIC میں مبصر کی حیثیت رکھتی ہے۔
صدر دفتر بیت المقدس کے بجائے جدہ میں کیوں ہے؟
کیونکہ منشور میں جدہ (جدة) کو عارضی مرکز قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم مسجد اقصیٰ (المسجد الأقصى) کی آتشزدگی کے ردِعمل میں بنی تھی، اور اس کا اعلان کردہ ارادہ یہ ہے کہ مستقل صدر دفتر القدس میں ہوگا۔
کیا رکنیت کے لیے مسلم اکثریت شرط ہے؟
نہیں۔ کئی رکن ممالک میں مسلمان اقلیت یا نسبتی اکثریت میں ہیں۔ رکنیت ریاست کی درخواست اور تنظیم کی منظوری سے ملتی ہے، آبادی کے کسی تناسب سے نہیں۔