اہم حقائق
- پیدائش
- 20 نومبر 1750ء یا یکم دسمبر 1751ء، دیو نہلی (موجودہ کرناٹک)؛ مورخین میں دونوں تاریخیں ملتی ہیں
- شہادت
- 4 مئی 1799ء، سرنگاپٹم کے قلعے کے دفاع میں
- دورِ حکومت
- 1782ء تا 1799ء، سلطنتِ میسور، جسے وہ "سرکارِ خداداد" کہتے تھے
- والد
- حیدر علی، جن سے فوجی تربیت اور ریاست دونوں ورثے میں ملیں
- دارالحکومت
- سرنگاپٹم (سری رنگا پٹنا)، دریائے کاویری کے بیچ ایک جزیرہ
- سب سے نمایاں کارنامہ
- لوہے کے خول والے راکٹ، جو دنیا میں اپنی نوعیت کے پہلے تھے
- تدفین
- گنبز، سرنگاپٹم، والد حیدر علی کے پہلو میں
- اصل تحریر
- پروفیسر طاہر ملک؛ توسیع ابو ابراھیم
فہرست
ٹیپو سلطانؒ کو ہم یاد کیوں نہیں کرنا چاہتے؟
ہر سال دہرایا جانے والا سوال
رواں سال بھی ٹیپو سلطانؒ کی سالگرہ خاموشی اور بے اعتنائی سے گزر گئی۔ ہم ٹیپو سلطانؒ کو یاد کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں ٹیپو سلطانؒ کو جاننا پڑے گا۔
انگریز کی نظر میں شیرِ میسور
ٹیپو سلطانؒ، جنہیں انگریز مورخ شیرِ میسور کے نام سے یاد کرتے ہیں، انگریز سرکار کے نزدیک ایک ظالم حکمران تھا، جو انگریز کے ہندوستان میں تسلط اور بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔
سرنگاپٹم کا معرکہ
بہادری اور قومی غیرت اُسے اپنے والد حیدر علی سے ورثے میں ملیں۔ مدراس سے کوئی ڈھائی سو میل دور اپنی ریاست سرنگاپٹم کے قلعے میں ٹیپو سلطانؒ اور انگریز فوج میں گھمسان کا رن پڑا۔
جس دلیری اور استقامت سے ٹیپو سلطانؒ اور اُس کی افواج نے انگریز افواج کا مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مقامی سطح پر تیار ہونے والی توپیں اور دیگر سامانِ حرب و ضرب اس جنگ کا حصہ تھے۔ ٹیپو سلطانؒ جنگ سے قبل فرانسیسی جرنیل نپولین سے رابطے میں تھا۔ اُس کی خواہش تھی کہ فرانس کے ساتھ مل کر سلطنتِ برطانیہ کو شکست دی جائے، لیکن یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔
روایت مشہور ہے کہ ٹیپو سلطانؒ کی افواج میں شیروں کا ایک دستہ بھی شامل تھا۔ آج بھی لندن کے وکٹوریہ میوزیم میں وہ نمونہ موجود ہے جس میں ایک شیر نے انگریز فوجی کو دبوچ رکھا ہے اور خوف کے مارے اُس کی جان نکلی جا رہی ہے۔
ٹیپو سلطانؒ یہ کہا کرتا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ لہٰذا جب اس قول کے عملی مظاہرے کا وقت آیا تو اُس نے اگلے مورچوں پر لڑتے ہوئے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ وطن کی آزادی کی خاطر جان دے دی، لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔
شکست کی اصل وجہ: اپنوں کی مخالفت
افسوس کا مقام یہ ہے کہ انگریز افواج اُسے شکست نہ دے سکتیں اگر نظام آف حیدرآباد کی سپاہ کا ایک دستہ انگریز افواج کا حصہ نہ بنتا۔
لہٰذا 1799ء سے لے کر آج تک ہماری ہر شکست "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کی حکمتِ عملی کی مرہونِ منت چلی آ رہی ہے۔
ہم کس کو یاد رکھتے ہیں؟
جب میں یہ سوچتا ہوں کہ ٹیپو سلطانؒ کی اتنی بڑی قربانی کو ہم نے کیوں فراموش کر دیا تو مجھے چند روز قبل اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر یاد آتی ہے۔
روزنامہ دنیا میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق چوہدری نثار علی خان کے آبائی گاؤں چک بیلی خان سے تعلق رکھنے والے شاہ حامد خان کو برطانیہ کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز وکٹوریہ کراس ملنے کی سو سالہ یادگاری تقریب پاکستان آرمی کے زیرِ انتظام منائی گئی۔ پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی قبر پر سلامی پیش کی۔ پہلی جنگِ عظیم میں شاہ حامد خان نے دشمن فوج کا بڑی دلیری سے مقابلہ کیا تھا، لہٰذا برطانوی حکومت نے 12 اپریل 1916ء کو انہیں وکٹوریہ کراس سے نوازا۔
میرا تعلق بھی چکوال کی تحصیل تلہ گنگ سے ہے۔ ٹیپو سلطانؒ کو دریافت کرنے سے قبل میں بھی اس تفاخر کا شکار رہا کہ چکوال برصغیر میں پہلا وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے مسلمان برطانوی فوجی کا ضلع ہے، اور انگریز کی فوج میں بھرتی ہونے والے مسلمان "مارشل ریس" سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن جب زمانۂ طالب علمی میں مطالعہ پاکستان کا نصاب پڑھا تو مزید تضادات آشکار ہوتے چلے گئے: ایک جانب تو ہماری تاریخ میں یہ لکھا ہے کہ ہم نے انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی حاصل کی، تو دوسری جانب ٹیپو سلطانؒ کے بجائے وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے فوجی افسران ہمارے ہیرو کیوں ہیں؟
وہ جاگیردار اور پیر جنہوں نے انگریزوں سے لڑنے کے بجائے معمولی مفادات کے پیشِ نظر غلامی کو ترجیح دی اور اپنی قوم کا سودا کیا، ہم ہر سال ان کی برسی بڑی شان و شوکت سے مناتے ہیں۔
آج کی صورتحال
آج بھی ہم ٹیپو سلطانؒ کے نام پر کسی شہر کا نام نہ رکھ سکے۔ آج بھی راولپنڈی کینٹ میں جنرل گریسی کے نام پر ایک سڑک منسوب ہے۔ اگر ٹیپو سلطانؒ ہمارے قومی نصاب میں جگہ نہ بنا سکا تو کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیپو سلطانؒ ہمیں غیرت و حمیت کا درس دیتا ہے؟ اُس کی ڈکشنری میں ڈیل کرنا، اپنے بچوں کے لیے آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرونِ ملک دولت کے انبار لگانا، بیرونِ ملک جائیدادیں بنانا، ریٹائرمنٹ کے بعد غیر ملکی ملازمت قبول کرنا، اپنی نوکری کی خاطر قومی مفادات داؤ پر لگانا، اپنی جان بچا کر میدانِ جنگ سے فرار ہونا، اور سب سے بڑھ کر اپنی مٹی سے غداری کرنا شامل ہی نہ تھا۔
مختصر سوانحی خاکہ

نام اور خاندان
فتح علی ٹیپوؒ دیو نہلی (بنگلور سے تینتیس کلومیٹر شمال) کے قلعے میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کی تاریخ میں مآخذ مختلف ہیں: پرانی اور برصغیر میں رائج روایت 20 نومبر 1750ء کی ہے، جب کہ حالیہ مغربی مآخذ یکم دسمبر 1751ء لکھتے ہیں۔ نام کی نسبت آرکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیاؒ کی طرف ہے، جن کے مزار پر حیدر علی اور ان کی اہلیہ فاطمہ فخر النساء بیٹے کی دعا مانگنے جایا کرتے تھے؛ اور "فتح علی" دادا فتح محمد کی یادگار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دادا فتح محمد نوابِ کرناٹک کی فوج میں بانس کے راکٹوں کے دستے میں پچاس سواروں کے کماندار تھے: یعنی جو ہتھیار آگے چل کر ٹیپوؒ کی پہچان بنا، اس سے اس خاندان کا رشتہ تین نسلیں پرانا تھا۔
تعلیم و تربیت
حیدر علی خود لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، مگر بیٹے کی تعلیم کے لیے انہوں نے قابل اتالیق مقرر کیے۔ ٹیپوؒ نے فارسی، عربی، کنڑ اور اردو (بعض روایات میں تیلگو اور مرہٹی بھی) سیکھی، قرآن اور فقہ کی تعلیم پائی، اور گھڑ سواری، نشانہ بازی اور شمشیر زنی میں طاق ہوئے۔ فنِ حرب کی تربیت غازی خان اور حیدر علی کی ملازمت میں موجود فرانسیسی افسروں سے ملی۔ پندرہ برس کی عمر میں وہ پہلی اینگلو میسور جنگ میں والد کے ساتھ محاذ پر تھے، اور سولہ برس کی عمر میں کرناٹک کی مہم میں رسالے کی کمان ان کے سپرد تھی۔
تختِ میسور
حیدر علی کا انتقال دوسری اینگلو میسور جنگ کے دوران، چتور کے قریب فوجی کیمپ میں، 6 دسمبر 1782ء کو ہوا (بعض بیانات 7 دسمبر لکھتے ہیں)۔ خبر کو خفیہ رکھا گیا تاکہ مالابار کے محاذ پر لڑتے ہوئے ٹیپوؒ واپس پہنچ کر نظام سنبھال لیں۔ 22 دسمبر 1782ء کو بید نور میں وہ سلطنتِ میسور کے فرماں روا ہوئے۔ اپنی ریاست کو وہ "سرکارِ خداداد" یعنی خدا کی دی ہوئی حکومت کہتے تھے، اور شیر (ببری) ان کا شعار تھا: تخت پر، ہتھیاروں پر، وردیوں پر، عمارتوں پر، ہر جگہ شیر کی دھاریاں اور شیر کا نشان۔
1774ء میں ایک ہی شب ان کی دو شادیاں ہوئیں؛ رقیہ بانو، جنہیں ان کی سب سے قریبی رفیقہ کہا گیا ہے، 1792ء میں محاصرے کے زمانے میں وفات پا گئیں۔ شہادت کے وقت ان کے بارہ صاحبزادے حیات تھے (میجر ایلن کی ہم عصر فہرست میں تیرہ نام ملتے ہیں)، جن میں سب سے چھوٹے، غلام محمد، سب سے آخر تک زندہ رہے؛ خاندان کا انجام آگے ایک الگ باب میں آئے گا۔
کتب خانہ اور خوابوں کا رجسٹر
سرنگاپٹم کے محل کا کتب خانہ تقریباً دو ہزار قلمی نسخوں پر مشتمل تھا: فارسی، عربی، کنڑ، مرہٹی، تیلگو، فرانسیسی اور انگریزی تک۔ اس کا بڑا حصہ خود جنگوں کا مالِ غنیمت تھا: بیجاپور کے عادل شاہی، گولکنڈہ کے قطب شاہی اور ساونور کے نوابوں کے کتب خانوں سے آیا ہوا۔ ٹیپوؒ کتابیں پڑھتے اور حاشیے لکھتے تھے؛ محل میں جلد سازی کا باقاعدہ کارخانہ تھا، اور نئی جلدوں پر اللہ، محمد ﷺ اور اہلِ بیت کے نام نقش کیے جاتے تھے۔ 1799ء کے بعد یہ سارا ذخیرہ کیسے بکھرا، اس کا حساب آگے "جو کچھ لُٹا" کے باب میں ہے۔
ان کی شخصیت کی سب سے ذاتی دستاویز وہ رجسٹر ہے جو انہوں نے اپنے ہاتھ سے فارسی میں لکھا اور جس میں اپنے سینتیس خواب درج کیے: یہ "خواب نامہ" اتنا خفیہ تھا کہ ان کے اپنے منشی حبیب اللہ نے، جو اس کے وجود سے واقف تھے، اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ سقوطِ سرنگاپٹم کے بعد کرنل کرک پیٹرک کو یہ خواب گاہ کی تلاشی میں ملا اور آج برٹش لائبریری میں محفوظ ہے۔ خوابوں میں دشمن شکست کھاتے دکھائی دیتے ہیں اور انگریز "نصاریٰ" کہلاتے ہیں: ایک ایسے حکمران کی داخلی دنیا جس کی سلطنت گھٹتے گھٹتے ایک جزیرے تک آ گئی تھی، مگر خواب فتح کے تھے۔
میسور کے راکٹ: دنیا کی پہلی لوہے کے خول والی راکٹ ٹیکنالوجی
ٹیپو سلطانؒ کا سب سے ٹھوس اور سب سے کم بیان کیا جانے والا کارنامہ ان کے راکٹ ہیں۔ اُس وقت تک راکٹ کاغذ یا کارٹن کے خول میں بنتے تھے، جو زیادہ دباؤ برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ میسور میں پہلی بار لوہے کے خول (iron casing) میں بارود بھرا گیا، جس سے دہن کا دباؤ بھی بڑھا اور راکٹ کا زور بھی: عام راکٹ ہزار گز کے قریب مار کرنے لگا، اور بہترین اقسام کے لیے دو کلومیٹر تک کے دعوے ملتے ہیں۔ راکٹ کے ساتھ تلوار نما پھل باندھا جاتا تھا، جو ہوا میں گھومتا ہوا صفوں کو چیرتا چلا جاتا۔

کھدائی میں ملے اصل نمونے (ناگرا، 2002ء اور 2018ء کی دریافتیں) بتاتے ہیں کہ خول تقریباً بیس سینٹی میٹر لمبی نالی کا ہوتا تھا، قطر چار سے سات سینٹی میٹر، اندر کوئی آدھ کلو بارود، اور نالی کم کاربن والے فولاد کی چادر سے بنی ہوتی تھی۔ اسے تین میٹر لمبے بانس یا سیدھی تلوار کے پھل سے باندھا جاتا۔ بنگلور میں راکٹ سازی کا محلہ آج تک "تارا منڈل پیٹ" یعنی کہکشاں بازار کہلاتا ہے: نام ہی بتا دیتا ہے کہ وہاں بنتا کیا تھا۔
یہ محض تجربہ نہ تھا بلکہ باقاعدہ فوجی نظام تھا۔ حیدر علی کے عہد میں راکٹ اندازوں کی تعداد بارہ سو تھی؛ ٹیپوؒ کے فوجی ضابطے "فتح المجاہدین" میں ہر کوشون (بریگیڈ) کے ساتھ دو سو راکٹ انداز مقرر کیے گئے، اور فوج میں سولہ سے چوبیس کوشون تھے۔ مشہور تحریروں میں پانچ ہزار کا عدد ملتا ہے، جو اسی ضابطے کی نظری گنجائش ہے؛ 1792ء کی دستاویزات میں عملاً ایک سو بیس اور ایک سو اکتیس افراد کے دستے درج ہیں۔ سپاہی کو سکھایا جاتا تھا کہ ہدف کے فاصلے کے حساب سے راکٹ کس زاویے سے چھوڑنا ہے۔ 1780ء کی جنگِ پولی لور میں انہی راکٹوں نے انگریز فوج کے بارود کے ذخیرے کو آگ لگا دی اور کمپنی کو اُس دور کی بدترین شکستوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا۔
1799ء میں سرنگاپٹم کے سقوط کے بعد فاتحوں کو اسلحہ خانے میں چھ سو راکٹ لانچر، سات سو تیار راکٹ اور نو ہزار خالی خول ملے (یہ اعداد بعد کے مآخذ میں منقول ہیں)۔ نمونے وولوچ کے شاہی اسلحہ خانے بھیجے گئے، جہاں دو راکٹ آج بھی رائل آرٹلری میوزیم میں محفوظ ہیں۔ انہی پر تحقیق کر کے ولیم کانگریو نے 1804ء سے اپنے راکٹ بنائے: جو راکٹ وہ بازار سے خرید سکتا تھا وہ چھ سو گز جاتے تھے، 1806ء تک اس کے بتیس پاؤنڈی راکٹ تین ہزار گز تک پہنچ گئے۔ یہی کانگریو راکٹ نپولین کے خلاف جنگوں میں، 1807ء میں کوپن ہیگن پر، اور 1814ء میں بالٹی مور کے قلعہ میک ہنری پر برسے؛ امریکی قومی ترانے میں جس "راکٹوں کی سرخ چمک" کا ذکر ہے، اس کا نسب نامہ میسور سے جا ملتا ہے۔ نصاب میں یہ کڑی عموماً غائب رہتی ہے۔
فوجی جدت: ضابطہ، بحریہ اور قلعے
فوجی نظم و ضبط کے لیے ٹیپوؒ نے "فتح المجاہدین" کے نام سے ایک ضابطہ مرتب کروایا، جسے 1783ء میں ان کی ہدایت پر زین العابدین شوستری نے تحریر کیا۔ اس میں فوج کی تنظیم، مشقوں، راکٹ دستوں اور داغنے کے زاویوں تک کے قواعد درج تھے، اور ہر افسر کو اس کا نسخہ دیا گیا۔ اُس عہد کے ہندوستان میں اس نوعیت کی تحریری فوجی دستاویز عام نہ تھی۔
چالیس جہازوں کا حکم نامہ
کم لوگ جانتے ہیں کہ ٹیپوؒ ایک باقاعدہ جنگی بحریہ بنا رہے تھے۔ 1796ء میں انہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت چالیس جہاز تیز رفتاری سے تعمیر ہونے تھے: بہتّر بہتّر (72) توپوں والے بیس جنگی جہاز اور بیس فریگیٹ۔ بحریہ کے لیے گیارہ "میرِ یم" (امیر البحر) کا بورڈ بنا جس کا صدر دفتر سرنگاپٹم میں تھا، اور جمال آباد، وجید آباد اور مجید آباد میں گودیاں قائم ہوئیں۔ جہازوں کے پیندے تانبے سے منڈھنے کا حکم تھا، ایک ایسی جدت جس کی افادیت فرانسیسی امیر البحر سوفراں نے انہیں دکھائی تھی اور جو خود شاہی بحریہ میں نئی نئی رائج ہوئی تھی۔ 1799ء کی جنگ نے یہ منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
قلعے اور کارخانے
قلعہ بندی میں فرانسیسی مہندسی کھل کر استعمال ہوئی: سکلیش پور کے قریب منجرآباد کا قلعہ (1792ء) آٹھ کونوں والا ستارہ نما قلعہ ہے، جو فرانسیسی ماہر ووبان کے اصولوں پر بنا؛ خود سرنگاپٹم کی فصیلیں بھی فرانسیسی مدد سے نئے انداز پر اٹھائی گئیں، اور دریائے کاویری کی شاخیں شمال اور مغرب میں قدرتی خندق کا کام دیتی تھیں۔ اسلحے میں خود کفالت کے لیے سرنگاپٹم، بنگلور، چتردرگ اور بید نور میں بندوقوں کے قریب دس کارخانے کام کرتے تھے، اور مقامی ساخت کی توپیں اور بندوقیں معیار میں یورپی ساخت کے مقابل سمجھی جاتی تھیں۔
انتظامی اور معاشی اصلاحات
زمین اور کاشتکار
ٹیپوؒ کی حکومت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی۔ محصولِ زمین کے نظام کو انہوں نے براہِ راست کاشتکار سے جوڑا تاکہ درمیانی جاگیردار طبقے کا اثر کم ہو۔ ان کے محکمہ مال کے ضابطوں (جن کا انگریزی ترجمہ 1792ء میں چھپا) میں لکھا ہے کہ خشک اور سیراب زمین پرانے اور نئے کاشتکاروں میں برابر بانٹی جائے، اور یہ کہ گاؤں کا مکھیا اپنی ذاتی زمین کاشتکاروں سے زبردستی نہیں جتوا سکتا۔ بنجر زمین آباد کرنے والے کو پہلے سال محصول معاف، دوسرے سال چوتھائی، اور پھر پورا: یعنی آباد کاری پر باقاعدہ رعایت۔ انگریز منتظم تھامس منرو نے 1802ء میں لکھا کہ حیدر علی واحد ہندوستانی حکمران تھا جس نے اپنے سب چھوٹے جاگیرداروں کو قابو میں کیا؛ ٹیپوؒ نے یہی سلسلہ آگے بڑھایا، اور یہی اصلاح اُس طبقے کی مخالفت کا سبب بھی بنی جو پرانے بندوبست سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔
ریشم: مسقط کے خط سے آج کے کرناٹک تک
ریشم کی صنعت کا آغاز ایک خط سے ہوا: 24 اپریل 1786ء کو ٹیپوؒ نے مسقط میں اپنے گماشتے کو لکھا کہ دلال کے ذریعے ریشم کے کیڑے اور ان کی پرورش جاننے والے لوگ جمع کر کے میسور بھیجے جائیں۔ پھر دو وفد روانہ ہوئے: ایک بنگال گیا جو چار سال بعد لوٹا، اور ایک چین، جسے واپسی میں بارہ برس لگے۔ 1794ء تک ریاست میں اکیس مراکز قائم ہو چکے تھے جہاں ریشم کے کیڑے پالے جاتے تھے۔ جو نسل میسور میں جڑ پکڑ گئی وہ آگے چل کر "خالص میسور نسل" کہلائی؛ 1799ء کے بعد بھی شہتوت اور ہنر باقی رہے، بیسویں صدی میں ٹاٹا سلک فارم (1902ء) اور سینٹرل سلک بورڈ (1949ء) اسی بنیاد پر اٹھے، اور آج بھی کرناٹک ہندوستان میں شہتوتی ریشم کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے۔
صنعت، تجارت اور سونے کی حفاظت
ریاست نے چینی، نمک، لوہا، کالی مرچ، الائچی، چھالیہ، تمباکو اور صندل کی پیداوار اپنے ہاتھ میں رکھی۔ 1791ء میں جب انگریزوں نے بنگلور پر قبضہ کیا تو ٹیپوؒ نے صندل کی لکڑی ان کے بازاروں تک پہنچنے سے روک دی، اور اگلے سال ریاست کے سب صندل کے درختوں پر سرکاری اجارہ قائم کر دیا؛ کرناٹک میں صندل کے موجودہ قانون کی جڑ آج بھی اسی فیصلے میں ہے۔ لوہے اور فولاد کے کام کو ریاستی سرپرستی ملی: تمکور کے علاقے میں بھٹیاں چلتی تھیں، اور ضابطے کی ایک ہدایت میں افسروں کو حکم تھا کہ بھٹیوں کی تعداد دس سے بڑھا کر بیس کی جائے۔ یاد رہے کہ مشہور "ووٹز" فولاد میسور کا صدیوں پرانا ہنر تھا؛ ٹیپوؒ نے اسے ایجاد نہیں کیا، منظم اور وسیع کیا۔
تجارت میں ریاست کی اپنی کوٹھیاں تھیں: اندرونِ ملک بھی اور کراچی، جدہ اور مسقط میں بھی۔ مسقط کی کوٹھی "بیت النواب" کہلاتی تھی، اس کا اپنا عملہ اور دستہ تھا، اور میسوری تاجروں کو وہاں محصول میں باقاعدہ رعایت حاصل تھی: میسوری مال پر چار فیصد، جب کہ یورپیوں پر پانچ اور دیگر ہندوستانیوں پر آٹھ فیصد۔ ہر سال پانچ چھ جہاز میسور کا جھنڈا لگائے مسقط پہنچتے: صندل، کالی مرچ، الائچی، چاول اور کپڑا لے کر؛ اور واپسی پر ریشم کے کیڑے، زعفران کے بیج، گندھک اور تانبا لاتے۔ سونا چاندی ملک سے باہر نہ جانے دینے کی باقاعدہ پالیسی تھی: ضابطے کی ہدایت نمبر اڑسٹھ کے تحت کاشتکار اگر محصول میں سونا چاندی دیں تو وہ تاجروں کے بجائے سرکار خریدے گی، اور فرانس سے 1788ء کے مجوزہ تجارتی معاہدے میں طے یہی ہونا تھا کہ میسور کی پیداوار کی قیمت نقدی میں نہیں بلکہ توپوں، بندوقوں اور جہازوں میں ادا ہو۔
معاشرہ اور آبادکاری
شراب کی فروخت اور بدکاری کے اڈوں پر ان کے دور میں سخت پابندی رہی۔ بنگلور کا مشہور "لال باغ" حیدر علی نے 1760ء کے لگ بھگ شروع کیا تھا؛ ٹیپوؒ نے اسے وسعت دی اور ایران، افغانستان اور فرانس تک سے پودے منگوائے۔ کاویری پر آب پاشی کے کام بھی جاری رہے: 1797ء کا ایک فارسی کتبہ آج بھی موجود ہے جس میں دارالحکومت کے مغرب میں ٹیپوؒ کے حکم سے اٹھائے گئے ستر فٹ سے اونچے پشتے کا ذکر ہے۔ (بعض حالیہ بیانات میں کہا گیا کہ موجودہ کرشنا راجا ساگرا ڈیم کی بنیاد ٹیپوؒ نے رکھی؛ یہ درست نہیں، وہ ڈیم 1911ء تا 1931ء مہاراجا کرشنا راجا واڈیار چہارم کے عہد میں بنا۔ ٹیپوؒ کا پشتہ ایک الگ، مکمل تعمیر تھی، اور کتبہ ڈیم کے دروازے پر محض محفوظ کر دیا گیا ہے۔) معاشی مورخ پرسنن پارتھا سارتھی کا جائزہ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں میسور معیارِ زندگی کے اعتبار سے بنگال کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کی سب سے مضبوط معیشت بن چکا تھا؛ یہ ایک علمی تعبیر ہے، مگر جس ریاست کے بارے میں ہے، اس کی سمت بتا دیتی ہے۔
سکہ اور تقویم: ایک نئے عہد کا اعلان

سکہ ان کے مزاج کا آئینہ ہے۔ ہر سکے کا اپنا نام تھا: سونے کے سکے رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین کے ناموں پر (چار پگوڈا کا سکہ "احمدی"، دو کا "صدیقی"، ایک کا "فاروقی")، چاندی کے سکے ائمۂ اہلِ بیت کے ناموں پر، اور تانبے کے سکے ستاروں اور سیاروں کے ناموں پر: مشتری، زہرہ، بہرام، اختر۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی سکے پر انہوں نے اپنا نام نہیں لکھوایا۔
پھر تقویم: 1784ء میں انہوں نے ہجری کے بجائے "مولودی" سنہ رائج کیا، جس کا آغاز ولادتِ رسول ﷺ سے ہوتا تھا۔ یہ شمسی قمری تقویم تھی، جس میں مہینوں کے نام بھی نئے رکھے گئے (احمدی، بہاری، جعفری، حیدری، اور بعد کی ترتیب میں رحمانی، رازی، ربانی تک)، اور پانچویں سالِ حکومت سے یہ سنہ سکوں پر بھی آنے لگا۔ ہم عصر مؤرخ میر حسین علی خان کرمانی نے لکھا کہ "وہ ہر معاملے میں جدت اور ایجاد کے شوقین تھے"۔ عوام بڑی حد تک پرانی ہجری اور مقامی تقویم ہی پر رہے، مگر یہ تجربہ اس حکمران کی نفسیات کھول دیتا ہے: وہ صرف ریاست نہیں چلا رہے تھے، ایک نیا عہد شروع کرنا چاہتے تھے، اور اس عہد کا مرکز انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ولادت کو بنایا۔
سفارت کاری: ایک عالمی نظر
ٹیپوؒ جانتے تھے کہ کمپنی سے تنہا نہیں لڑا جا سکتا۔ چنانچہ انہوں نے عثمانی خلافت، فرانس اور ایران کی طرف باقاعدہ سفارتی وفود بھیجے۔ فرانس کا وفد جولائی 1787ء میں روانہ ہوا: محمد درویش خان، اکبر علی خان اور محمد عثمان خان؛ اگست 1788ء میں ورسائی کے محل میں لوئی شانزدہم نے ان کا استقبال کیا۔ عثمانی دربار سے بھی خط و کتابت رہی۔ مقصد ایک ہی تھا: ہندوستان میں انگریز کے پھیلاؤ کے خلاف کوئی بین الاقوامی توازن پیدا کیا جائے۔

یہ وفد صرف فوجی اتحاد مانگنے نہیں گیا تھا۔ ساتھ کاریگروں کی ایک باقاعدہ فہرست تھی: دس توپ ساز، دس بندوق ساز، چینی مٹی کے دس کاریگر، دس شیشہ گر، دس گھڑی ساز، دس بنکر، مشرقی زبانوں کے طابع، ایک طبیب، ایک جراح اور مہندس؛ ساتھ بیج اور پودے الگ۔ اٹھارہویں صدی کی کسی بھی ہندوستانی ریاست کی طرف سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کی یہ سب سے واضح دستاویزی کوشش ہے: ہتھیار خریدنے کے بجائے ہنر درآمد کرنے کا منصوبہ۔
یہ کوششیں بڑی حد تک بے نتیجہ رہیں، کیونکہ فرانس اپنے داخلی انقلاب میں الجھ چکا تھا اور عثمانی سلطنت اپنے محاذوں میں۔ البتہ نپولین کی 1798ء کی مصر کی مہم کا ایک اعلانیہ مقصد ہندوستان پہنچ کر ٹیپوؒ سے ہاتھ ملانا تھا، اور گورنر جنرل ویلزلی نے چوتھی جنگ کا جواز اسی خطرے کو بنایا۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں جنوبی ہند کا ایک حکمران عالمی سطح پر اتحاد بنانے کی سوچ رکھتا تھا۔
چار جنگیں: ایک مختصر ترتیب
میسور اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان چار جنگیں ہوئیں، اور ان کی ترتیب سمجھے بغیر 1799ء کا انجام سمجھ میں نہیں آتا۔
- پہلی (1767ء تا 1769ء): حیدر علی کے دور میں، جو کمپنی کو مدراس کے دروازے تک لے آئے اور معاہدۂ مدراس اپنی شرائط پر کروایا، جس میں باہمی دفاع کی شق بھی تھی۔ 1771ء میں جب مرہٹوں نے میسور پر چڑھائی کی تو کمپنی اسی شق سے مکر گئی؛ یہ بے وفائی اگلی جنگ کا بیج بنی۔
- دوسری (1780ء تا 1784ء): اسی میں جنگِ پولی لور ہوئی، جہاں راکٹوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ حیدر علی کے انتقال کے بعد ٹیپوؒ نے کمان سنبھالی، اور 11 مارچ 1784ء کو صلحِ منگلور پر جنگ ختم ہوئی: مؤرخ سیلندر ناتھ سین کے الفاظ میں یہ آخری موقع تھا کہ کسی ہندوستانی طاقت نے کمپنی سے اپنی شرائط پر معاہدہ لکھوایا۔ کمپنی کے نمائندوں کو دستخط کے لیے خود منگلور میں ٹیپوؒ کے کیمپ آنا پڑا۔
- تیسری (1790ء تا 1792ء): کمپنی نے نظام حیدرآباد اور مرہٹوں کو ساتھ ملا لیا۔ معاہدۂ سرنگاپٹم (18 مارچ 1792ء) کے تحت ٹیپوؒ کو آدھی ریاست اور تین کروڑ تیس لاکھ روپے تاوان دینا پڑا، اور ضمانت کے طور پر اپنے دو صاحبزادے کمپنی کے حوالے کرنے پڑے۔
- چوتھی (1799ء): سرنگاپٹم کا محاصرہ اور ٹیپو سلطانؒ کی شہادت۔
پولی لور: کمپنی کی بدترین شکست

10 ستمبر 1780ء کو پولی لور (کانچی پورم کے قریب) میں ٹیپوؒ کی قیادت میں میسوری فوج نے کرنل بیلی کے 3,853 افراد کے دستے کو گھیر کر ختم کر دیا۔ لڑائی کا رخ اُس لمحے مڑا جب بارود کی دو گاڑیاں بیلی کے مربعے کے اندر پھٹ گئیں، اور غالب گمان یہی ہے کہ انہیں میسوری راکٹوں نے اڑایا تھا۔ ہم عصر بیان کے مطابق آخر میں مربعے کے پانچ سو افراد میں سے صرف سولہ سپاہی بغیر زخم کے کھڑے تھے۔ زخمی بیلی سمیت تقریباً دو سو یورپی قیدی سرنگاپٹم لائے گئے۔ اُس وقت تک ہندوستان میں کمپنی کو ایسی شکست کبھی نہیں ملی تھی۔
تیسری جنگ کا زخم: بیٹے گروی

26 فروری 1792ء کو عبد الخالق (عمر تقریباً دس برس) اور معز الدین (تقریباً آٹھ برس) ہاتھیوں پر بٹھا کر کارنوالس کے کیمپ بھیجے گئے، اور تاوان کی ادائیگی مکمل ہونے پر مارچ 1794ء میں والد کے پاس لوٹے۔ جس معاہدے نے ریاست آدھی کر دی اور بیٹے گروی رکھوا لیے، اسی نے 1799ء کی جنگ کا نقشہ بھی کھینچ دیا: اب میسور تنہا تھا، قرضے میں تھا، اور کمپنی، نظام اور مرہٹوں کا اتحاد سامنے کھڑا تھا۔ چوتھی جنگ میں محاصرہ 5 اپریل 1799ء کو شروع ہوا: باہر تقریباً پچاس ہزار کی اتحادی فوج، اندر بیس پچیس ہزار مدافع، جن میں فرانسیسی افسر شاپوئی کے ساڑھے چار سو سپاہی بھی تھے۔ 2 مئی کو مغربی فصیل میں شگاف کھل گیا۔
یہ ترتیب پروفیسر طاہر ملک کے اس نکتے کی تصدیق کرتی ہے کہ شکست تنہا میدان میں نہیں ہوئی۔ تیسری جنگ ہی میں وہ صف بندی مکمل ہو چکی تھی جس میں مقامی طاقتیں کمپنی کے ساتھ کھڑی تھیں۔ روایتی بیانیے میں میر صادق کا نام غداری کے استعارے کے طور پر لیا جاتا ہے؛ مؤرخین اس کی تفصیلات پر مختلف رائے رکھتے ہیں، مگر اس پر اتفاق ہے کہ اندرونی پھوٹ اور مقامی اتحادوں کے بغیر قلعہ اتنی جلدی نہ گرتا۔
4 مئی 1799ء: آخری دن
اُس دن کی روداد انگریزوں کے اپنے سرکاری بیانات (کرنل بیٹسن کی 1800ء کی کتاب اور جنرل ہیرس کی رپورٹ) میں محفوظ ہے۔ صبح نجومیوں نے دن منحوس بتایا؛ ٹیپوؒ نے دس بجے کے قریب صدقات دیے اور دوپہر کا کھانا واٹر گیٹ کے قریب کھا رہے تھے کہ خبر آئی: حملہ شروع ہو گیا ہے اور ان کے جرنیل سید غفور شہید ہو گئے ہیں۔ جواب میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ سید غفور کو موت کا خوف کبھی نہ تھا، محمد قاسم اس کا دستہ سنبھالے؛ پھر ہتھیار منگوا کر فصیل کی طرف چل دیے۔

حملہ دوپہر ایک بجے، سب سے سخت گرمی کے وقت کیا گیا، جب توقع تھی کہ محافظ آرام میں ہوں گے۔ قیادت اُس جنرل ڈیوڈ بیئرڈ کے پاس تھی جو کبھی اسی قلعے میں ٹیپوؒ کا قیدی رہ چکا تھا۔ ہر اول کے چھہتر سپاہیوں نے چار فٹ گہرے پانی میں کاویری عبور کی، اور سولہ منٹ کے اندر فصیل پر انگریز جھنڈا تھا۔ ٹیپوؒ شمالی فصیل پر آ چکے تھے: ملازم شکاری بندوقیں بھر بھر کر دیتے جاتے اور وہ، جو مشہور نشانہ باز تھے، داغتے جاتے۔ اسی لڑائی میں وہ دو بار زخمی ہوئے۔
کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ خاموش رہو۔
یہ ان کا جواب تھا جب زخمی حالت میں ان کے معتمد راجہ خان نے التجا کی کہ خود کو انگریزوں پر ظاہر کر دیں تاکہ جان بچ جائے۔ فرانسیسی مشیر خفیہ راستوں سے نکل جانے کا مشورہ پہلے ہی دے چکے تھے؛ وہ بھی نہ مانا۔ واٹر گیٹ کی تنگ گزرگاہ میں، جہاں ان کے اپنے پسپا ہوتے سپاہیوں کا ہجوم راستہ روکے ہوئے تھا، ایک انگریز سپاہی نے، جس کی نظر ان کی مرصع پیٹی پر تھی، بالکل قریب سے گولی چلائی۔ سلطان وہیں گرے۔ وہ سپاہی کبھی شناخت نہ ہو سکا۔

رات ہوئی تو مشعلوں کی روشنی میں تلاش شروع ہوئی۔ قلعے کے ایک افسر نے پہلے کہا سلطان محل میں ہیں، پھر مان گیا کہ واٹر گیٹ کی گزرگاہ میں زخمی پڑے ہیں۔ لاشوں کے ڈھیر تلے سے جب انہیں نکالا گیا تو جسم ابھی گرم تھا اور آنکھیں کھلی تھیں؛ کرنل آرتھر ویلزلی نے، جو آگے چل کر ڈیوک آف ویلنگٹن بنا، نبض اور دل پر ہاتھ رکھ کر تصدیق کی۔ ہم عصر گواہ بینجمن سڈنہم نے لکھا کہ زخم دائیں کان کے اوپر تھا اور گولی بائیں رخسار میں اتری تھی، اور جسم پر تین زخم اور تھے۔

اگلی شام، 5 مئی کو، پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کا جنازہ اٹھا: انگریز گرینیڈیئر خود میت کے جلو میں چلے، اور انہیں گنبز میں والد حیدر علی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ تدفین کے ختم ہوتے ہی شہر پر ایسی آندھی اور کڑک کا طوفان ٹوٹا کہ بمبئی فوج کے کئی افسر اور سپاہی مارے گئے؛ یہ تفصیل بھی انگریز ہی کے بیانات میں درج ہے۔
شیر والا قول: اصل ماخذ کیا کہتا ہے
مشہور قول کی قدیم ترین سند خود انگریز کی سرکاری کتاب ہے: بیٹسن (1800ء) لکھتا ہے کہ ٹیپوؒ اکثر کہا کرتے تھے کہ "اس دنیا میں دو دن شیر کی طرح جینا دو سو سال بھیڑ کی طرح جینے سے بہتر ہے"۔ یعنی قول شہادت سے پہلے کا، ان کا معمول کا کلام ہے، کسی خاص لمحے کا نعرہ نہیں؛ "گیدڑ کی سو سالہ زندگی" والی صورت بعد کی روایت ہے۔ مفہوم دونوں کا ایک ہے، اور 4 مئی کے دن انہوں نے اس قول کو قول نہیں رہنے دیا۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَاور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں۔
شہید کے بارے میں قرآن کا یہی اعلان ہے: آلِ عمران 3:169۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ٹیپوؒ کو ہمیشہ اسی نظر سے دیکھا اور "شہید" ان کے نام کا مستقل حصہ بن گیا۔

جو کچھ لُٹا: خزانہ، کتب خانہ اور نشانیاں
قلعہ گرنے کے بعد جو کچھ ہوا اسے انگریز خود "سیک آف سرنگاپٹم" یعنی سرنگاپٹم کی لوٹ کہتے ہیں۔ خزانے، جواہر اور ذخیروں کی مالیت کا تخمینہ تقریباً بیس لاکھ پاؤنڈ لگا، جس میں سے نصف سے زیادہ باقاعدہ "انعام" بنا کر فوج میں بانٹا گیا۔ گنتی کے پہلے ہی دن مہر بند تھیلوں میں بارہ لاکھ سلطانی پگوڈے نکلے۔ تقسیم عہدے کے حساب سے تھی: عام سپاہی کو سات پاؤنڈ ملے، کپتان کو آٹھ سو چونسٹھ، کرنل کو چار ہزار سے اوپر، اور کمانڈر انچیف جنرل ہیرس کو آٹھواں حصہ، جو ایک حساب سے ایک لاکھ بیالیس ہزار پاؤنڈ بنا۔ جس ریاست کا سونا باہر نہ جانے دینے کے لیے ٹیپوؒ نے ضابطے لکھوائے تھے، اس کا خزانہ ہفتوں میں جہازوں پر تھا۔
اصل تحریر میں لندن کے عجائب گھر کا ذکر آیا ہے۔ وضاحت کے لیے: وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں رکھی وہ چیز کوئی تصویر نہیں بلکہ لکڑی کا ایک مشینی نمونہ ہے جسے "ٹیپوز ٹائیگر" کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک شیر انگریز سپاہی کو دبوچے ہوئے ہے، اور اندر نصب آلہ چلانے پر شیر کی گرج اور سپاہی کی کراہ کی آوازیں نکلتی ہیں۔ یہ 1790ء کے لگ بھگ ٹیپوؒ کے لیے بنایا گیا؛ 1799ء میں محل کے سازوں والے کمرے سے ملا، لندن بھیجا گیا، 1808ء سے ایسٹ انڈیا ہاؤس میں نمائش پر رہا اور 1880ء میں موجودہ میوزیم کو ملا۔ دوسری جنگِ عظیم میں جرمن بمباری سے چھت اس پر آ گری اور خول ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا؛ جوڑ کر 1947ء سے پھر نمائش پر ہے۔ میوزیم کا اپنا اندراج کہتا ہے کہ خول جنوبی ہند کی کاریگری ہے اور اندر کا باجا یورپی ساخت کا: یعنی یہ کھلونا بھی اسی ٹیکنالوجی کی گواہی ہے جو ٹیپوؒ فرانس سے درآمد کر رہے تھے۔

کتب خانے کے دو ہزار نسخے "مالِ غنیمت" قرار پا کر بکھیر دیے گئے: کچھ فورٹ ولیم کالج کلکتہ کو، کچھ ایسٹ انڈیا ہاؤس لندن کو، کچھ آکسفورڈ اور کیمبرج کو۔ چارلس اسٹیورٹ نے 1809ء میں اس ذخیرے کی فہرست چھاپی: چوالیس مکمل قرآن، ایک سو نوے دواوین، ایک سو اٹھارہ تواریخ، پچانوے کتبِ فقہ۔ آج برٹش لائبریری اپنے ذخیرے میں ساڑھے پانچ سو کے قریب نسخوں کی شناخت ٹیپوؒ کے کتب خانے سے کرتی ہے، اور ان کا ذاتی مصحف آکسفورڈ کی بوڈلین لائبریری میں ہے۔
تلواریں بھی گئیں۔ خواب گاہ سے ملنے والی تلوار فوج نے جنرل بیئرڈ کو پیش کی؛ اس کے خاندان کے پاس دو صدیاں رہنے کے بعد یہ 2003ء میں ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ میں بکی، اور 23 مئی 2023ء کو لندن کے نیلام گھر بونہمز میں ایک کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈ میں: کسی بھی ہندوستانی اور اسلامی نوادر کی اب تک کی سب سے بڑی قیمت۔ تختِ شاہی کو انعامی کمیٹی نے 1799ء ہی میں توڑ کر بانٹ دیا تھا؛ اس کے آٹھ میں سے ایک مرصع شیر سر پر 2021ء میں برطانوی حکومت نے برآمدی پابندی لگائی کہ "قومی ورثہ" باہر نہ چلا جائے۔ جو چیز لوٹ کر آئی تھی، وہ اب برطانیہ کا قومی ورثہ ہے؛ واپسی کی بحث چل رہی ہے، واپسی نہیں ہوئی۔

یہ اشیاء اسی سوال کو دہراتی ہیں جس سے یہ تحریر شروع ہوئی تھی: جو نشانیاں دوسروں نے سنبھال کر رکھیں، اُن کے مالک کو ہم نے اپنے نصاب اور اپنے شہروں کے ناموں میں جگہ کیوں نہ دی۔ قول دہرانا اور یاد رکھنا دو الگ چیزیں ہیں۔
مذہب اور رواداری: الزام، دستاویز اور توازن
ٹیپو سلطانؒ پر سب سے گرم بحث یہی ہے: ہندوستان کا ایک طبقہ انہیں مندر توڑنے والا متعصب کہتا ہے، دوسرا مندروں کا محسن۔ دونوں طرف دستاویزات پیش ہوتی ہیں، اس لیے یہ مطالعہ دونوں کو سامنے رکھتا ہے، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ کون سی دستاویز کس کے قلم سے آئی ہے۔
سرنگیری کے خطوط
1791ء میں، تیسری جنگ کے دوران، مرہٹہ لشکر کے ساتھ آئے پنڈاری سواروں نے جنوبی ہند کی سب سے محترم ہندو درس گاہوں میں سے ایک، سرنگیری شاردا پیٹھم کو لوٹا، پجاری مارے گئے اور دیوی شاردا کی مورتی اکھاڑ دی گئی۔ پیٹھم کے شنکر آچاریہ نے مدد کے لیے جس حکمران کو لکھا وہ ٹیپوؒ تھے۔ 1916ء میں میسور کے محکمہ آثارِ قدیمہ کو کنڑ زبان میں تقریباً تیس خطوط ملے جو اس دربار اور ٹیپوؒ کے درمیان برسوں چلتی خط و کتابت کا ریکارڈ ہیں: ٹیپوؒ نے بید نور کے گورنر کو حکم دیا کہ مورتی کی دوبارہ تنصیب کے لیے نقدی اور سامان دیا جائے، اور لکھا کہ جنہوں نے ایسے مقدس مقام پر ہاتھ ڈالا ہے وہ اپنے کیے کا پھل بھگت کر رہیں گے۔ بعد کے خطوں میں وہ آچاریہ سے بارش اور فصل کے لیے دعا کی درخواست بھی کرتے ہیں۔
یہ تنہا واقعہ نہیں۔ ریاستی ریکارڈ کے مطالعے (سبارایا چیٹی) نے گنا ہے کہ ٹیپوؒ کے دور میں تقریباً ایک سو چھپن مندروں کو سالانہ وظائف ملتے رہے۔ سری رنگا پٹنا کا رنگا ناتھا سوامی مندر ان کے محل سے چار سو میٹر پر تھا اور پورے دور میں آباد رہا؛ ٹیپوؒ نے اسے چاندی کے ظروف دیے۔ میل کوٹ کے مندر کو دیے گئے برتنوں پر ان کے نام کا کتبہ آج تک موجود ہے، اور وہیں کے لیے ان کا کنڑ فرمان بھی کہ روایتی مذہبی اوراد اسی طرح جاری رہیں۔ (نن جن گڑ کے مشہور "زمرد کے شِولنگ" کی کہانی البتہ روایت ہی ہے؛ خود مندر کے پجاری مانتے ہیں کہ اس کی کوئی تحریری سند نہیں۔)
دوسرا پہلو
اسی دور میں جنگی علاقوں کی تصویر مختلف ہے۔ 1784ء میں کینرا کے مسیحیوں کو، جن پر انگریزوں سے تعاون کا الزام تھا، جبراً سرنگاپٹم منتقل کیا گیا؛ تعداد کے دعوے تیس ہزار سے اسی ہزار تک ہیں (ساٹھ ہزار کا عدد خود ٹیپوؒ کے سرکاری وقائع نامے کا ہے)، ہزاروں راستے اور قید میں مرے، اور رہائی 4 مئی 1799ء کو ہی ملی۔ کورگ کی مہم میں جبری منتقلی اور تبدیلیِ مذہب کے دعوے خود ٹیپوؒ کے خطوط میں ملتے ہیں (چالیس ہزار کا عدد)، اگرچہ ایک ہم عصر بیان صرف پانچ سو کا ذکر کرتا ہے اور مؤرخ اس خطے کی کل آبادی کے پیشِ نظر بڑے اعداد پر شک کرتے ہیں۔ مالابار میں نائر قیدیوں اور جبری تبدیلی کے احکام کرک پیٹرک کے ترجمہ کردہ خطوں میں ہیں، اور سریانی مسیحیوں (سینٹ تھامس مسیحیوں) کی روایات اپنے گرجوں اور مدرسوں کی تباہی گنواتی ہیں۔ گھر میں سرپرستی، جنگی علاقے میں سختی: یہ تضاد خود دستاویزات میں ہے۔
مؤرخ کیا کہتے ہیں
یہیں سے جدید تحقیق کی بات شروع ہوتی ہے۔ ان الزامات کے دو بنیادی مآخذ، ولکس اور کرک پیٹرک، دونوں انہی جنگوں میں کمپنی کی طرف سے لڑے تھے؛ محقق کیٹ برٹل بینک نے صاف لکھا ہے کہ یہ دونوں "خاص احتیاط سے" استعمال ہونے چاہئیں۔ کرک پیٹرک نے ٹیپوؒ کے قبضے میں آئے تقریباً ایک ہزار خطوں میں سے چھانٹ کر وہی چھاپے جو اس کے بقول "خاص طور پر کردار ظاہر کرنے والے" تھے، اور دیباچے میں ٹیپوؒ کو ظالم، متعصب، غدار، حتیٰ کہ "پرچون فروش" تک لکھا: ترجمہ نہیں، فردِ جرم۔ مائیکل سوراکو کے 2013ء کے تحقیقی مقالے کا نتیجہ یہ ہے کہ توسیع پسند گورنر جنرلوں نے ٹیپوؒ کا کردار جان بوجھ کر سیاہ کیا تاکہ اپنی جارحانہ جنگیں برطانوی عوام کے سامنے جائز لگیں۔ آج کے سنجیدہ مؤرخ (برٹل بینک، محب الحسن، عرفان حبیب) عمومی نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ ٹیپوؒ کی سختی کا پیمانہ مذہب نہیں، وفاداری تھا: اپنی ریاست کے ہندو اور مسیحی محفوظ اور سرپرستی یافتہ رہے، اور جن گروہوں کو انہوں نے دشمن کا مددگار سمجھا، ان پر جنگی سزائیں اتریں، جن کے اعداد کمپنی کے قلم نے کئی گنا کیے۔
آج کا ہندوستان
یہ بحث آج سیاست بن چکی ہے۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے 2015ء میں سرکاری سطح پر "ٹیپو جینتی" منانی شروع کی؛ پہلے ہی سال کورگ کے فسادات میں کئی جانیں گئیں؛ 2019ء میں بی جے پی حکومت نے اسے "متنازع اور فرقہ وارانہ" کہہ کر ختم کر دیا، اور 2022ء تا 2023ء نصابی کتابوں میں ٹیپوؒ کے ابواب پہلے چھوٹے کیے گئے، پھر حکومت بدلنے پر پھر بحال ہوئے۔ مگر یہی ہندوستانی ریاست 1974ء میں ٹیپوؒ کا یادگاری ڈاک ٹکٹ چھاپ چکی ہے جس کے سرکاری متن میں انہیں "ملک کی آزادی کا محافظ" لکھا گیا جس نے "بے آبروئی پر موت کو ترجیح دی"۔ ایک ہی ریاست کے دو حافظے: یہ خود اس مضمون کے بنیادی سوال کا ہندوستانی رخ ہے۔
خاندان کا انجام: ویلور سے کلکتہ کی گمنامی تک
شہادت کے بعد سلطان کا پورا خاندان، بیویاں، والدہ، بارہ بیٹے اور بیٹیاں، ویلور کے قلعے میں منتقل کر دیا گیا: پنشن یافتہ قیدی، جن کا ہر خرچ کمپنی کے کھاتے میں اور ہر حرکت کمپنی کی نظر میں تھی۔
سات برس بعد وہ قلعہ خود تاریخ بن گیا۔ 10 جولائی 1806ء کو ویلور کے سپاہی، جن میں میسور کے پرانے ملازم بھی تھے، نئی وردی اور مذہبی سختیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے: ہندوستان میں کمپنی کے خلاف پہلی بڑی فوجی بغاوت، جو 1857ء سے اکاون برس پہلے ہوئی۔ ایک رات پہلے قلعے میں ٹیپوؒ کی ایک صاحبزادی کی شادی تھی، جس کے اجتماع نے سازش کو پردہ دیا؛ باغیوں نے قلعے پر میسور کا شیر دھاری جھنڈا لہرایا اور ٹیپوؒ کے دوسرے بیٹے فتح حیدر کو حکمران پکارا۔ چودہ انگریز افسر اور ایک سو پندرہ سپاہی مارے گئے؛ پھر گلیسپی کی امدادی فوج پہنچی اور حساب برابر کیا: لگ بھگ ساڑھے تین سو باغی مارے گئے، اور قریب سو کو دیوار کے آگے کھڑا کر کے گولی مار دی گئی۔
کمپنی نے نتیجہ نکالا کہ شہزادوں کی موجودگی ہی بغاوت کا مرکز ہے، اور خاندان کو سمندر پار بنگال بھیج دیا: پہلے کلکتہ کے مضافات رسا پگلہ، پھر ٹالی گنج کی کوٹھیوں میں۔ ایک علمی شمار کے مطابق باون افرادِ خانہ منتقل ہوئے؛ ایک اور روایت خدم و حشم سمیت تین سو کا ذکر کرتی ہے۔ وظیفے نسل در نسل بٹتے گئے اور سکڑتے گئے۔
سب سے چھوٹے صاحبزادے غلام محمد سلطان (1795ء تا 1872ء) اس بکھرے گھرانے کے سربراہ بنے، کلکتہ میں ٹیپو سلطان شاہی مسجد (1842ء) اور ٹالی گنج کی مسجد تعمیر کروائی، اور برطانوی ہند نے انہیں سر کا خطاب تک دیا۔ ان کی جاگیر کی زمینوں پر آج کلکتہ کا ٹالی گنج کلب اور رائل کلکتہ گالف کلب کھڑے ہیں۔ اور آج؟ صحافتی رپورٹیں کلکتہ میں ٹیپوؒ کی نسل کے تقریباً پینتالیس افراد گنتی ہیں: کوئی رکشہ چلاتا ہے، کوئی سائیکلیں مرمت کرتا ہے، کوئی درزی ہے۔ سلطنت سے رکشے تک کا یہ سفر بھی اسی سوال کا حصہ ہے جو اصل تحریر نے اٹھایا تھا: یاد رکھنے والوں نے کیا یاد رکھا، اور بھول جانے والوں نے کیا کھو دیا۔
سرنگاپٹم آج: عمارتیں گواہ ہیں
دریائے کاویری کے بیچ وہ جزیرہ آج بھی آباد ہے، اور ٹیپوؒ کی عمارتیں اس مقدمے کی زندہ گواہ ہیں جو یہ مضمون لڑ رہا ہے۔

گنبز وہ مقبرہ ہے جو ٹیپوؒ نے خود اپنے والدین کے لیے بنوایا تھا اور جہاں 5 مئی 1799ء کی شام وہ خود بھی اتارے گئے۔ سیاہ ستونوں والا یہ گنبد آج بھی زائرین سے خالی نہیں رہتا؛ روایت ہے کہ 1929ء میں یہاں فاتحہ پڑھنے والوں میں علامہ اقبالؒ بھی تھے، جن کا ذکر اگلے باب میں آئے گا۔


ساگوان کی لکڑی سے بنا دریا دولت باغ ٹیپوؒ کا گرمائی محل تھا۔ اس کی مغربی دیوار پر انہوں نے پولی لور کی فتح کی وہ بڑی مصوری بنوائی جس کا گواش نسخہ اوپر جنگوں کے باب میں آیا ہے: فاتح نے اپنی فتح خود اپنی دیوار پر لکھی، اور قسمت کی ستم ظریفی یہ کہ 1799ء کے بعد اسی محل میں آرتھر ویلزلی رہائش پذیر ہوا۔

قلعے کے اندر مسجدِ اعلیٰ ہے، جو ٹیپوؒ نے تخت سنبھالنے کے آغاز میں بنوائی اور جہاں آج بھی نماز ہوتی ہے۔ بنگلور میں ان کا گرمائی محل، جسے وہ "رشکِ جنت" کہتے تھے، اور حیدر علی کا شروع کیا ہوا لال باغ اب بھی شہر کے سینے پر ہیں؛ راکٹوں والا محلہ تارا منڈل پیٹ اپنا نام لیے بیٹھا ہے، اور صندل پر ریاستی اجارے کا ان کا قانون کرناٹک کے جنگلات کے قانون میں زندہ ہے۔ عمارتیں، نام اور قانون سب گواہی دے رہے ہیں؛ کمی صرف پڑھنے والوں کی ہے۔

علامہ اقبالؒ اور اردو دنیا کی یادداشت
پروفیسر طاہر ملک کا سوال ہے کہ ہم ٹیپوؒ کو یاد کیوں نہیں کرتے۔ اس کا سب سے وزنی جواب یہ ہے کہ ہمارے سب سے بڑے مفکر نے انہیں جو مقام دیا، اس سے بڑا مقام اردو شاعری میں کسی حکمران کو نہیں ملا۔ جنوری 1929ء میں علامہ اقبالؒ خطباتِ مدراس کے سفر پر جنوبی ہند گئے، اور اردو سوانحی روایت متفق ہے کہ اسی سفر میں وہ سرنگاپٹم حاضر ہوئے اور گنبز پر فاتحہ پڑھی؛ روایتوں میں یہ بھی ہے کہ مزار پر وہ گھنٹوں مراقب رہے۔ (انگریزی تذکرے صرف خطبات درج کرتے ہیں، اس لیے حاضری کی تفصیل کو ہم روایت ہی کہہ کر لکھ رہے ہیں۔)
جو چیز روایت نہیں، سند کے ساتھ موجود ہے، وہ اس سفر کا حاصل ہے: ضربِ کلیم (1936ء) کی نظم "سلطان ٹیپو کی وصیت"، پانچ اشعار، جن میں اقبالؒ نے شہید سلطان کی زبان سے ملت کو وصیت لکھوائی ہے:
تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبوللیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبولاے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیزساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبولکھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میںمحفل گداز! گرمیِ محفل نہ کر قبولصبحِ ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نےجو عقل کا غلام ہو، وہ دل نہ کر قبولباطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہےشرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
اور فارسی میں اس سے بھی بلند مقام: جاوید نامہ (1932ء) کی معراجِ فکر میں اقبالؒ نے میر صادق اور میر جعفر کو فلکِ زحل پر رکھا، وہ غدارانِ ملت جنہیں جہنم نے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا؛ اور سارے آسمانوں کے سفر کے آخر میں، جنت کے محلات میں، جو آخری انسانی روح ملتی ہے وہ شہید سلطان ٹیپوؒ کی ہے، جو دریائے کاویری کے نام پیغام دیتے ہیں: شیر کا ایک لمحہ بھیڑ کی صدی سے بہتر ہے۔ گویا اقبالؒ کے سفرِ معراج کا نقطۂ عروج، اللہ کے حضور پہنچنے سے پہلے کا آخری پڑاؤ، ٹیپوؒ ہیں۔ اس سے بڑا خراجِ عقیدت اردو فارسی ادب میں کسی بادشاہ کو نہیں ملا۔
پاکستان میں ٹیپوؒ کا نام
ریاستِ پاکستان نے بھی یہ نام سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ آزادی کے فوراً بعد بحریہ نے اپنی پہلی بڑی جنگی کشتیوں میں سے ایک کا نام "پی این ایس ٹیپو سلطان" رکھا: یہ وہی مشہور برطانوی تباہ کن جہاز HMS Onslow تھا جس کے کپتان نے دوسری جنگِ عظیم میں وکٹوریہ کراس پایا تھا؛ پاکستانی پرچم تلے اس نے 1965ء کی جنگ میں دوارکا کی بمباری میں حصہ لیا۔ نام پھر دو اور جہازوں کو ملا؛ آخری، فاک لینڈز جنگ کا تجربہ کار برطانوی فریگیٹ، 1994ء میں پاکستان آیا اور 27 اپریل 2020ء کو مشق میں بطور ہدف غرق کیا گیا: یعنی ستر برس تک بحری بیڑے میں یہ نام موجود رہا، اُس حکمران کا نام جس کی اپنی بحریہ کبھی مکمل نہ ہو سکی۔ ڈاک خانے نے 23 مارچ 1979ء کو "مجاہدینِ آزادی" سلسلے میں ان کا ٹکٹ جاری کیا، اور 2019ء میں وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا: "ٹیپو سلطان ہمارا ہیرو ہے"۔
عوامی یادداشت میں سب سے گہرا نقش ناولوں نے چھوڑا: نسیم حجازیؒ کے "معظم علی" اور "اور تلوار ٹوٹ گئی" نے نسلوں کو سرنگاپٹم کی کہانی سنائی؛ دوسرے ناول کا نام ہی 1799ء کو مسلم ہند کی تلوار ٹوٹنے کا استعارہ بنا گیا۔ ٹی وی پر سنجے خان کا بھارتی سیریل The Sword of Tipu Sultan (دوردرشن، 1990ء، ساٹھ اقساط) سرحد کے دونوں طرف دیکھا گیا؛ اس کی تیاری کے دوران میسور کے اسٹوڈیو کی آگ میں باسٹھ افراد جان سے گئے، جو خود اس کہانی کا بھلا دیا گیا باب ہے۔ پی ٹی وی نے بھی "Tipu Sultan: The Tiger Lord" بنایا، اور کراچی کی مرکزی شاہراہوں میں ایک ٹیپو سلطان روڈ ہے۔
تو کیا ہم واقعی بھول گئے؟ نظم موجود ہے، جہاز رہے، ٹکٹ چھپا، ناول پڑھے گئے، سڑک کا نام ہے۔ مگر اصل تحریر کی چبھن اپنی جگہ کھڑی ہے: یہ سب یادداشت کے جزیرے ہیں، نصاب اور اجتماعی شعور کا مرکزی دھارا آج بھی وکٹوریہ کراس کی صد سالہ تقریبیں مناتا ہے اور 4 مئی خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ اقبالؒ نے جو مقام دیا تھا، قوم نے وہ مقام ابھی دینا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ٹیپو سلطانؒ واقعی راکٹ کے موجد تھے؟
راکٹ خود اُن سے پہلے بھی موجود تھے، مگر لوہے کے خول والا راکٹ میسور کی ایجاد ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس نے راکٹ کو ایک مؤثر فوجی ہتھیار بنایا۔ اسی بنیاد پر انگریزوں نے وولوچ میں تحقیق کی اور کانگریو راکٹ وجود میں آیا۔ یعنی درست بات یہ ہے کہ جدید فوجی راکٹ کا سلسلہ میسور سے جا ملتا ہے، نہ یہ کہ راکٹ کی ابتدا وہیں سے ہوئی۔
سرنگاپٹم کیوں گرا؟
کمپنی کے پاس عددی برتری تھی، مگر فیصلہ کن بات صف بندی تھی: نظام حیدرآباد اور مرہٹے کمپنی کے ساتھ تھے، اور تیسری جنگ کے معاہدے نے میسور کو پہلے ہی آدھا کر رکھا تھا۔ اندرونی پھوٹ کا کردار روایتی بیانیے میں میر صادق کے نام سے بیان ہوتا ہے۔
کیا ٹیپو سلطانؒ ہندوؤں کے دشمن تھے؟
ریاستی ریکارڈ کچھ اور کہتا ہے: سرنگیری کے شنکر آچاریہ سے تیس خطوط کی خط و کتابت، مرہٹہ لوٹ مار کے بعد مندر کی بحالی کے لیے امداد، اور تقریباً ایک سو چھپن مندروں کے سالانہ وظائف دستاویزی طور پر ثابت ہیں۔ دوسری طرف جنگی علاقوں (کورگ، مالابار، کینرا) میں جبری منتقلیوں اور تبدیلیِ مذہب کے واقعات بھی دستاویزات میں ہیں، جن کے اعداد بڑی حد تک کمپنی کے مؤرخوں کے بڑھائے ہوئے ہیں۔ جدید محققین کا عمومی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی سختی کا پیمانہ مذہب نہیں بلکہ وفاداری تھا، اور "متعصب ظالم" کی تصویر بڑی حد تک کمپنی کے جنگی پروپیگنڈے کی تعمیر ہے۔
ٹیپو سلطانؒ کے خاندان کا کیا انجام ہوا؟
پورا خاندان پہلے ویلور کے قلعے میں نظر بند ہوا؛ 1806ء کی بغاوت کے بعد کلکتہ جلا وطن کر دیا گیا۔ سب سے چھوٹے بیٹے غلام محمد (1795ء تا 1872ء) نے کلکتہ میں ٹیپو سلطان شاہی مسجد بنوائی۔ آج صحافتی رپورٹوں کے مطابق کلکتہ میں ٹیپوؒ کی نسل کے تقریباً پینتالیس افراد ہیں، جن میں سے کئی رکشہ چلانے اور درزی کا کام کرنے پر مجبور ہیں۔
ٹیپو سلطانؒ کی تلوار اور "ٹیپوز ٹائیگر" اب کہاں ہیں؟
"ٹیپوز ٹائیگر" لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم میں نمائش پر ہے۔ خواب گاہ والی تلوار مئی 2023ء میں لندن کے نیلام گھر بونہمز میں ایک کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈ میں فروخت ہوئی، جو کسی بھی ہندوستانی اور اسلامی نوادر کی اب تک کی سب سے بڑی قیمت ہے۔ کتب خانے کے نسخے برٹش لائبریری، آکسفورڈ اور کیمبرج تک بکھرے ہوئے ہیں، اور ان کا ذاتی مصحف بوڈلین لائبریری، آکسفورڈ میں ہے۔
علامہ اقبالؒ نے ٹیپو سلطانؒ کے بارے میں کیا لکھا؟
ضربِ کلیم (1936ء) میں پانچ اشعار کی نظم "سلطان ٹیپو کی وصیت" ہے، اور فارسی جاوید نامہ (1932ء) میں اقبالؒ کے سفرِ معراج کی آخری انسانی ملاقات شہید سلطان ہی سے ہوتی ہے، جو دریائے کاویری کے نام پیغام دیتے ہیں؛ جب کہ ٹیپوؒ کے غدار میر صادق کو اقبالؒ نے میر جعفر کے ساتھ اُس مقام پر رکھا ہے جسے جہنم بھی قبول نہیں کرتی۔
قرآنی حوالہ جات
حوالہ جات
- پروفیسر طاہر ملک، محفوظ شدہ فورم تحریر (اصل تحریر)
- ٹیپو سلطان: سوانح اور دورِ حکومت
- میسور کے راکٹ: لوہے کے خول والی ٹیکنالوجی
- کانگریو راکٹ: میسور سے وولوچ تک
- جنگِ پولی لور، 1780ء
- محاصرۂ سرنگاپٹم، 1799ء
- فتح المجاہدین، ٹیپو سلطانؒ کا فوجی ضابطہ (زین العابدین شوستری، 1783ء)
- الیگزینڈر بیٹسن، جنگِ ٹیپو سلطان کا سرکاری برطانوی بیان (لندن، 1800ء)
- وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم، لندن: "ٹیپوز ٹائیگر" کا اندراج
- خواب نامہ: محمود حسین کا انگریزی ترجمہ (The Dreams of Tipu Sultan)
- سوما گھوش، ٹیپو سلطانؒ کے کتب خانے پر تحقیقی مقالہ (2022ء)
- سرنگیری شاردا پیٹھم اور 1791ء کے خطوط
- کینرا کے مسیحیوں کی قید: مآخذ اور اعداد کی بحث
- مائیکل سوراکو، "Tyrant!"، کمپنی کے پروپیگنڈے پر تحقیقی مقالہ (2013ء)
- مولودی تقویم اور سکوں پر تحقیق (The Seringapatam Times)
- مسقط کی میسوری کوٹھی اور عمان سے تجارت
- ریشم کی صنعت کا آغاز: مسقط کا خط اور اکیس مراکز
- ویلور کی بغاوت، 1806ء
- بونہمز نیلام گھر: تلوار کی ریکارڈ فروخت کا اعلامیہ (مئی 2023ء)
- علامہ اقبالؒ: "سلطان ٹیپو کی وصیت" (ضربِ کلیم، 78)
- جاوید نامہ: پیامِ سلطانِ شہید بہ دریائے کاویری
- پی این ایس ٹیپو سلطان: پہلا جہاز (سابق HMS Onslow)