1۔ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) — Fatwa QA
اہلِ سنت (بریلوی)، حنفی
فتویٰ نمبر FSD-9243
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سوشل میڈیا پر یہ بات کافی گردش کر رہی ہے کہ گردن کا مسح کرنا درست نہیں ہے، بدعت ہے، بعض لوگ یہ کہتے بھی سنائی دے رہے ہیں کہ گردن کے مسح کا ثبوت دین میں کہیں بھی نہیں ہے، ضعیف روایت میں تو کیا، کسی موضوع اور جھوٹی روایت میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ برائے کرم بتائیے کہ کیا واقعی گردن کا مسح کرنا غلط اور بدعت ہے اور قرآن و حدیث میں کہیں بھی گردن کے مسح کا ذکر نہیں؟
سائل: عبدالرحیم (فیصل آباد)
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وضو میں سر کے مسح کے ساتھ گردن کا مسح کرنا، نہ صرف جائز بلکہ مستحب، کارِ ثواب اور احادیثِ طیبہ، آثارِ صحابہ، اقوالِ ائمہ اور عباراتِ فقہاء سے ثابت ہے۔ دینِ اسلام میں اس کے وجود کا سرے سے انکار کرنا، اسے غلط و بدعت قرار دینا، علومِ حدیث سے ناواقفیت اور فقہی روایات سے نابلد ہونے کی دلیل ہے۔ نیز یاد رہے کہ احناف کے نزدیک گردن کا مسح فرض و واجب نہیں، بلکہ مستحب اور فضیلت والا عمل ہے؛ اور کسی مستحب عمل کے لیے حدیثِ صحیح یا حسن کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ حدیثِ ضعیف سے بھی کسی عمل کی فضیلت اور استحباب ثابت ہو جاتا ہے۔ جبکہ گردن پر مسح کے متعلق ایک نہیں، کئی قولی و فعلی احادیث و آثار موجود ہیں، بلکہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث حافظ عراقی رحمہ اللہ کے مطابق سنداً حسن ہے۔
احادیث و آثار
عن طلحة، عن أبيه، عن جده، أنه رأى رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يمسح رأسہ حتی بلغ القذال، و ما يليه من مقدم العنق بمرة قال: القذال: السالفة العنق
ترجمہ: حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اِن کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح فرمایا یہاں تک کہ قذال تک پہنچ گئے اور سر کے ساتھ ملے ہوئے گردن کے حصہ کابھی مسح فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: قذال سے مراد گردن کا وہ حصہ جو کان کی لو سے ملا ہوتا ہے۔
(مسند احمد، جلد 25، صفحہ 301، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)
حکمِ سند: ابن حجر فی التلخیص: اسنادہ ضعیف (طریقِ طلحہ عن أبیہ عن جدّہ)
حتی بلغ القذال وهو أول القفا
یعنی: یہاں تک کہ قذال یعنی گدی کے ابتدائی حصے تک۔
(سنن ابو داؤد، باب صفۃ وضوء النبی ﷺ، جلد 1، صفحہ 1، مطبوعہ بیروت)
حکمِ سند: وہی طریقِ طلحہ؛ ابن حجر و البانی: ضعیف
عن موسى بن طلحة، قال: من مسح قفاہ مع رأسه وقي الغل يوم القيامة
ترجمہ: حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس نے اپنے سر کے ساتھ گدی کا مسح کیا، وہ قیامت کے دن کی سختی سے محفوظ رہے گا۔
(الطھور، ص 373، مطبوعہ مکتبۃ الصحابہ جدۃ)
حکمِ سند: موسیٰ بن طلحہ تابعی؛ ابن حجر: لہ حکم الرفع، مرسل — احناف کے نزدیک حجت
عن وائل بن حجر، رضي اللہ عنه، قال شهدت النبي صلى اللہ عليه و سلم و أتي بإناء فيه ماء... و أدخل إصبعيه في داخل أذنيه و مسح ظاھر رقبته
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ تھا، تو ایک برتن لایا گیا، جس میں پانی تھا (پھر وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں) نبی مکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل فرمائیں اور اپنی گردن کا مسح کیا۔
(مسند البزار، جلد 10، صفحہ 355، مطبوعہ مدینہ)
حکمِ سند: الإمام العراقی: سندہ لا بأس بہ (حسن) — سب سے قوی روایت
حدثنا محمد بن أحمد حدثنا عبد الرحمن بن داود حدثنا عثمان بن خرزاذ حدثنا عمر بن محمد بن الحسن حدثنا محمد بن عمرو الأنصاري عن أنس بن سيرين عن ابن عمر، أنه كان إذا توضأ و مسح عنقه و يقول: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من توضأ ومسح عنقه لم يغل بالأغلال يوم القيامة
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب وضو کرتے، تو اپنی گردن کا مسح کرتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے وضو کیا اور اپنی گردن کا مسح کیا، وہ قیامت کے دن کی سختی سے محفوظ رہے گا۔
(تاریخ اصبھان، جلد 2، صفحہ 78، مطبوعہ بیروت)
حکمِ سند: العراقی و الزبیدی: ضعیف؛ فضائل میں قابلِ عمل
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی مذکورہ بالا حدیثِ پاک کا ایک دوسرا طریق بھی ہے، چنانچہ امام ابو المحاسن عبد الواحد بن اسماعیل رویانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 502ھ) لکھتے ہیں:
رأيته في تصنيف الشيخ أبى الحسن أحمد بن فارس بن زكريا "بإسناده عن فليح بن سليمان، عن نافع، عن ابن عمر رضي اللہ عنهما أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: "من توضأ ومسح يديه على عنقه وقي الغل يوم القيامة". وهذا صحيح إن شاء اللہ
ترجمہ: میں نے شیخ ابو الحسن احمد بن فارس بن زکریا علیہ الرحمۃ کی کتاب میں پڑھا، وہ اپنی سند سے حضرت فلیح بن سلیمان سے، وہ حضرت نافع سے اور وہ حضرت عبداللہ بن عمر علیہم الرضوان سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے وضو کیا اور اپنے ہاتھوں سے گردن کا مسح کیا، تو وہ قیامت کے دن کی سختی سے محفوظ رہے گا۔ (علامہ رویانی لکھتے ہیں:) یہ حدیث صحیح ہے، ان شاء اللہ عزوجل۔
(بحر المذھب، جلد 1، صفحہ 101، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حکمِ سند: ابن فارس: صحیح ان شاء اللہ؛ جمہور محدثین: ضعیف
علامہ رویانی علیہ الرحمۃ نے حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا "ھذا صحیح ان شاء اللہ"۔ اصولِ حدیث کے مطابق جب کوئی حدیث اصلاً صحیح ہو، مگر سند میں کسی علتِ خفیہ کا احتمال ہو، تو احتیاطاً "صحیح ان شاء اللہ" کہہ دیتے ہیں۔ اس کا کم از کم درجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حدیث بذاتِ خود سنداً حسن ہے۔ علامہ رویانی کے اس کلام کو علامہ ابن ملقن نے "شرح ابن رسلان" میں اور حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے "تلخیص الحبیر" میں بھی نقل کیا ہے۔
عن محمد ابن الحنفية قال: دخلت على والدي علي بن أبي طالب و إذا عن يمينه إناء من ماء...، ثم مسح عنقہ و قال: اللّٰهم نجنا من مقطعات النيران و اغلالها...الخ
ترجمہ: حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والدِ ماجد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، تو آپ کی دائیں جانب برتن پڑا تھا، جس میں پانی تھا (جس سے آپ نے وضو کیا، یہاں تک کہ) آپ نے اپنی گردن کا مسح کیا اور پھر یہ دعا پڑھی: اے اللہ! ہمیں آگ کی چنگاریوں اور اس کی سختیوں سے محفوظ فرما۔
(کنز العمال، کتاب الطھارۃ، باب اذکار الوضوء، جلد 9، صفحہ 468، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ)
حکمِ سند: اثرِ علیؓ (محمد بن الحنفیہ)؛ موقوف — فضائل میں قابلِ عمل
بعض روایات کی سند پر اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے، مثلاً اس روایت "مسح الرقبة أمان من الغل" کے متعلق بعض محدثین نے غیر معروف، غیرِ صحیح کا قول کیا، بلکہ امام نووی علیہ الرحمۃ نے اسے موضوع اور مسح کو بدعت قرار دیا، لیکن دیگر محدثین نے اس کا رد کیا اور فرمایا: امام بغوی جیسے جلیل القدر ائمہ نے اس عمل کو مستحب قرار دیا ہے، حالانکہ کسی عمل کی فضیلت و استحباب کے لیے کم از کم کوئی خبر یا اثر درکار ہوتا ہے، ایسی چیز اپنی عقل سے بیان نہیں کی جا سکتی، تو ضرور ان کے پاس کوئی روایت موجود ہوگی۔ نیز اگر کسی ایک امام کی تحقیق میں کوئی روایت موضوع ہو، تو صرف اسی بنیاد پر اس عمل کو بدعت نہیں قراردیا جاسکتا، اس لیے کہ گردن کے مسح کے ثبوت پر صرف یہی ایک روایت نہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سی روایات ہیں جن کی سند پر ایسا کلام نہیں اور وہ روایات اس حدیث کی شاہد بھی ہیں اور اسے تقویت بھی دیتی ہیں۔
اور بعض روایات موقوف ہیں، جیسے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا عمل "ثم مسح عنقہ"۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ موقوف روایات کا حکم بھی اس مقام پر حدیثِ مرفوع والا ہے؛ اصول یہ ہے کہ ایسے امور جو خلافِ قیاس ہوں (یعنی عبادات و اعمال پر مخصوص ثواب اور عقائد و امورِ آخرت) ان میں حدیثِ موقوف بھی حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے، کیونکہ ایسے امور صحابہ کرام اپنی عقل سے بیان نہیں کرتے، بلکہ ضرور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہوتا ہے (جب کہ راوی صحابی اسرائیلیات کا روایت کرنے والا نہ ہو)۔ نیز حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی روایت "من مسح قفاہ مع رأسه وقي الغل يوم القيامة" مرسل ہے، کیونکہ آپ تابعی ہیں، مگر تابعی کی مرسل جمہور کے نزدیک حجت ہے، بلکہ اگر دیگر احادیث سے تقویت بھی ہو جائے تو تمام محدثین کے نزدیک حجت ہے۔
حديث روي أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: "مسح الرقبة أمان من الغل" هذا الحديث أورده أبو محمد الجويني وقال: لم يرتض أئمة الحديث إسناده فحصل التردد في أن هذا الفعل هو سنة أو أدب و تعقبه الامام بما حاصله أنه لم يجر للأصحاب تردد في حكم مع تضعيف الحديث الذي يدل عليه... و قال النووي في شرح المهذب هذا حديث موضوع ليس من كلام النبي صلى اللہ عليه وسلم و زاد في موضع آخر لم يصح عن النبي صلى اللہ عليه و سلم فيه شيء و ليس هو سنة بل بدعة و لم يذكره الشافعي و لا جمهور الأصحاب و إنما قاله ابن القاص وطائفة يسيرة و تعقبه ابن الرفعة بأن البغوي من أئمة الحديث وقد قال باستحبابه ولا مأخذ لاستحبابه إلا خبر أو أثر لأن هذا لا مجال للقياس فيه، انتهى كلامه ولعل مستند البغوي في استحباب مسح القفا ما رواه أحمد وأبو داود من حديث طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده أنه رأى النبي صلى اللہ عليه و سلم يمسح رأسه حتى بلغ القذال وما يليه من مقدم العنق، و إسناده ضعيف كما تقدم و كلام بعض السلف الذي ذكره ابن الصلاح يحتمل أن يريد به ما رواه أبو عبيد في كتاب الطهور عن عبد الرحمن بن مهدي عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن عن موسى بن طلحة قال: "من مسح قفاه مع رأسه وقي الغل يوم القيامة" قلت: فيحتمل أن يقال هذا وإن كان موقوفا، فله حكم الرفع لأن هذا لا يقال من قبل الرأي فهو على هذا مرسل... و في البحر للروياني لم يذكر الشافعي مسح العنق، و قال أصحابنا: هو سنة وأنا قرأت جزءا رواه أبو الحسين بن فارس بإسناده عن فليح بن سليمان عن نافع عن ابن عمر أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: "من توضأ ومسح بيديه على عنقه وقي الغل يوم القيامة" و قال هذا إن شاء اللہ حديث صحيح
ترجمہ: مفہوم اوپر گزر چکا۔
(التلخيص الحبير، جلد 1، صفحہ 286، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
و قد ثبت في حديث وائل أنه عليه الصلاة و السلام مسح ظاهر رقبته رواه الترمذي و به استحبه علماؤنا..... قلت لكن رواه أبو عبيد القاسم عن القاسم بن عبد الرحمن عن موسى بن طلحة قال من مسح قفاه مع رأسه و قي من الغل و الحديث موقوف إلا أنه في الحكم مرفوع لأن مثله لا يقال بالرأي ويقويه ما روي مرفوعا من مسند الفردوس من حديث ابن عمر لكن بسند ضعيف والضعيف يعمل به في فضائل الأعمال اتفاقا و لذا قال أئمتنا إن مسح الرقبة مستحب أو سنة
یعنی: حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہوچکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گردن کا مسح فرمایا تھا، اسی وجہ سے ہمارے علما اس کو مستحب قراردیتے ہیں۔ مزید یہ کہ حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن مرفوع کے حکم میں ہے، کیونکہ ایسی بات اپنی رائے سے بیان نہیں کی جا سکتی، نیز اس روایت کی تقویت مسند الفردوس میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے، اگرچہ اس کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیثِ ضعیف فضائلِ اعمال میں بالاتفاق قابلِ عمل ہے، اسی وجہ سے ہمارے ائمہ نے گردن کے مسح کو مستحب یا سنت قرار دیا ہے۔
(الأسرار المرفوعۃ، صفحہ 315، 489، مطبوعہ دار الامانۃ، بیروت)
اسی مفہوم کو علامہ زین الدین عراقی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 806ھ) نے احیاء العلوم کی احادیث کی تخریج کرتے ہوئے "المغنی عن حمل الأسفار فی الاسفار" میں اور شیخِ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 1052ھ) نے "لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح" میں بیان کیا ہے۔ (المغني، صفحہ 158، مطبوعہ بیروت / لمعات التنقیح، ج 2، ص 126، مطبوعہ دار النوادر)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث سنداً حسن ہے۔ چنانچہ علامہ نور الدین علی بن محمد ابنِ عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 963ھ) "تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاخبار الشنیعۃ الموضوعۃ" میں نقل کرتے ہیں:
و قد سبق النووي إلى إنكاره ابن الصلاح و قال لا يعرف مرفوعا وإنما هو قول بعض السلف، قال العراقي نعم ورد مسح الرقبة من حديث وائل بن حجر في صفة وضوء النبي، أخرجه الطبراني و البزار في الكبير بسند لا بأس به و اللہ أعلم
یعنی: امام نووی سے پہلے حافظ ابن صلاح نے روایت "مسح الرقبۃ أمان من الغل" کا انکار کیا اور فرمایا کہ اس باب میں کوئی مرفوع روایت معلوم نہیں، لیکن حافظ عراقی نے فرمایا کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث موجود ہے، جس کو امام طبرانی و امام بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں حرج والی کوئی بات نہیں۔
(تنزیہ الشریعۃ، ج 2، ص 75، مطبوعہ بیروت)
حدیث ضعیف متعدد طرق سے مروی ہو، تو قوی ہو کر حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچ جاتی ہے، چنانچہ فتح المغیث میں ایک حدیث کے متعلق ہے:
و هذه و إن كانت أسانيد مفرداتها ضعيفة، فمجموعها يقوي بعضه بعضا، و يصير الحديث حسنا و يحتج به
ترجمہ: یہ اسناد الگ الگ طور پر اگرچہ ضعیف ہیں، لیکن مجموعی طور پر بعض، دوسری بعض کو قوی کر رہی ہیں اور (تعددِ طرق کی وجہ سے) یہ حدیث حسن ہو گئی اور اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔
(فتح المغيث، جلد 1، صفحہ 94، مطبوعہ مصر)
"حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں تو ضعیف ضعیف مل کر بھی قوت حاصل کرلیتے ہیں، بلکہ اگر ضعف غایت شدّت و قوّت پر نہ ہو تو جبر نقصان ہوکر حدیث درجہ حسن تک پہنچتی اور مثل صحیح خود احکامِ حلال و حرام میں حجّت ہوجاتی ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 472، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
تعددِ طرق کے ذریعے ضعیف حدیث کے درجۂ حسن تک پہنچنے کے لیے صرف دو طریق کافی ہیں، جیساکہ علامہ عبد الرؤف مُناوی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 1031ھ) "التيسير" میں ایک حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
ضعيف لضعف عمرو بن واقد لكنه يقوي بوروده من طريقين … إسناده ضعيف لكن يجبره ما قبله فيتعاضدان
ترجمہ: یہ حدیث عمرو بن واقد کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن دو طریق سے آنے کی وجہ سے قوی ہو گئی۔ (دوسرے مقام پر:) اس کی سند ضعیف ہے، لیکن ماقبل حدیث نے اس ضعف کو پورا کر دیا، تو دونوں روایتیں ایک دوسرے کو قوی کر رہی ہیں۔
(التيسير، ج 1، ص 217، 204، مكتبة الامام الشافعي)
و الأحوط في مثل ذلك أن يعبر عنه بصحيح الاسناد، ولا يطلق التصحيح لاحتمال علة للحديث خفيت عليه، وقد رأيت من يعبر خشية من ذلك بقوله صحيح إن شاء اللہ تعالى
مفہوم اوپر بیان ہو گیا۔
(تدریب الراوی، جلد 1، صفحہ 161، مطبوعہ دار طیبۃ)
و المرسل حجۃ عندنا وعند الجمهور، و إذا اعتضد فعند الكل
ترجمہ: مرسل حدیث ہمارے اور جمہور محدثین کے نزدیک حجت ہے اور اگر اس کو دیگر روایات سے تقویت حاصل ہو جائے، تو سب کے نزدیک حجت ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح، جلد 6، صفحہ 2226، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیک حجت ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 293، رضا فاؤنڈیشن)
عباراتِ فقہاء
مبسوطِ سرخسی، تحفۃ الفقہاء، بدائع الصنائع، محیط برہانی، ہدایہ، بنایہ، فتح القدیر، کنز الدقائق، بحرالرائق، تبیین الحقائق، مراقی الفلاح، تنویر الابصار و درمختار، ردالمحتار، فتاویٰ عالمگیری وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے (و اللفظ للبحر):
(قوله: و مسح رقبته) يعني بظهر اليدين لعدم استعمال بلتهما... الصحيح أنه أدب، و هو بمعنى المستحب كما قدمناه، و أما مسح الحلقوم فبدعة
ترجمہ: اور ہاتھوں کی پشت کے ساتھ گردن کا مسح کیا جائے گا، کیونکہ ہاتھوں کی پشت کی تری استعمال نہیں ہوتی، اور صحیح یہ ہے کہ یہ ادب ہے اور مستحب کے معنیٰ میں ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کر دیا، البتہ گلے کا مسح کرنا، بدعت ہے۔
(بحرالرائق، جلد 1، صفحہ 29، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
الضعیف یعمل بہ فی الفضائل الاعمال اتفاقا ولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبۃ مستحب او سنۃ
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے، اسی لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنّت ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 482، رضا فاؤنڈیشن)
مزید تفصیلات کے لیے علامہ عبدالحی لکھنوی علیہ الرحمۃ کا رسالہ "تحفۃ الطلبۃ فی تحقیق مسح الرقبۃ" ملاحظہ کیجیے۔
تنبیہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پرفتن دور کے بارے میں بہت پہلے خبر عطا فرما دی تھی کہ ایسا پرفتن دور آئے گا کہ لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے اور وہ گمراہ کن، کم فہم، نام نہاد علما لوگوں کو گمراہ کریں گے، چنانچہ صحیح بخاری کی حدیثِ پاک ہے:
إن اللہ لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد، و لكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا، فسئلوا فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا
یعنی اللہ پاک علم کو بندوں (کے سینوں) سے کھینچ کر نہ اٹھائے گا بلکہ علما کی وفات سے علم اٹھائے گا، حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا، لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے، تو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 31، مطبوعہ مصر)
حکمِ سند: صحیح البخاری؛ (عمومی تنبیہ، مسحِ گردن سے متعلق نہیں)
إنما أخاف على أمتي الأئمة المضلين
یعنی مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ کا خوف ہے۔
(سنن ترمذی، جلد 4، صفحہ 504، مطبوعہ مصر)
حکمِ سند: سنن ترمذی؛ (عمومی تنبیہ، مسحِ گردن سے متعلق نہیں)
یہ ارشاداتِ نبوی سچ ثابت ہوتے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ دو چار احادیث کسی نے یاد کر لیں تو وہ محقق بن بیٹھتا ہے، اپنے آپ کو عالم، مفتی، مناظر گرداننے لگ جاتا ہے اور پھر علماء کے روپ میں سوشل میڈیا پر آ کر قرآن و حدیث کی غلط تشریحات کرتا ہے۔ حالانکہ حدیثِ پاک اگرچہ کتنے ہی شدید درجہ کی ضعیف ہو، معتبر ہے؛ محدثین و علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ جب تک کسی حدیث کا بطلان و موضوع ہونا ثابت نہ ہو، فضائل اعمال میں اس پر عمل کیا جائے گا، بشرطیکہ وہ روایت قرآن و سنت اور اجماع کے مخالف نہ ہو۔
فضائل و وعیدات کی روایات پر عمل کی اہمیت پر امامِ اہل سنت احمد رضا خان علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے، حدیث ضعیف ثبوتِ استحباب کے لئے بس ہے... جب کسی عمل کی فضیلت میں کوئی حدیث پائی جائے اور وہ حرمت و کراہت کے قابل نہ ہو، تو اُس حدیث پر عمل جائز و مستحب ہے کہ اندیشہ سے امان ہے اور نفع کی اُمید۔" اس کے بعد آپ نے کنز العمال، دارقطنی (کتاب الموضوعات)، ابنِ حبان، مکارم الاخلاق لابی الشیخ، مسند ابویعلی اور صحیح مسلم کی حدیثِ قدسی "انا عند ظن عبدی بی" سے استدلال فرمایا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 481 تا 489، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
مزید تفصیلات کے لیے امامِ اہل سنت علیہ الرحمۃ کا رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین" ملاحظہ کیجیے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حمزہ محمد حسان عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9243
تاریخِ اجراء: 17 رجب المرجب 1446ھ / 18 جنوری 2024ء
https://www.fatwaqa.com/ur/fatawa/taharat-ke-masail/gardan-ka-masah