مقدمہ مرزائیہ بہاولپور: تحفظِ ختم نبوت کا پہلا عدالتی فیصلہ

مقدمہ مرزائیہ بہاولپور

شیخ الاسلام محدّث گھوٹویؒ کا حاصل کردہ ۷ فروری ۱۹۳۵ء کا وہ تاریخی فیصلہ جو ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کی بنیاد بنا: ایک نو سالہ مقدمے کی مکمل روداد۔

مصنف: ابو ابراھیم · آخری تازہ کاری: 2026-07-28

اسے کیسے پڑھیں

چھ مراحل: مختصر تعارف سے تفصیلی حوالے تک۔

  1. 1
    آغازدیباچہ و تعارف

    مقدمے کا پس منظر اور اہمیت۔

  2. 2
    عدالتوں کی روداداحمد پور شرقیہ تا چیف کورٹ

    مقدمے کی ابتداء اور ضلعی و چیف کورٹ کی سماعت (۱۹۲۶ء تا ۱۹۳۱ء)۔

  3. 3
    دربارِ معلّیٰ کا اجلاسِ خاصاستثناء و بیان

    وزیرِ اعظم سے ملاقات، سو صفحاتی بیان، اور استثناء کا فیصلہ (۱۹۳۱ء)۔

  4. 4
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ و فیصلہعلماء، جج کا تبادلہ، فیصلہ

    چھ علماء کے بیانات، بیرسٹر گابا، اور ۷ فروری ۱۹۳۵ء کا تاریخی فیصلہ۔

  5. 5
    علمی مباحثختم نبوت و عقائدِ مرزا

    مدعیانِ نبوت، عقائدِ مرزا، ضروریاتِ دین، اہلِ قبلہ، باطنیہ، الہام و وحی۔

  6. 6
    ورثہ اور ۱۹۷۴ءآئینی ترمیم

    کیسے یہ فیصلہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کی بنیاد بنا۔

  7. 7
    منظوم خراجِ عقیدتمنقبت و قطعہ

    صاحبزادے کی منقبت اور قطعہ تاریخِ وصال۔

اہم حقائق

موضوع
غلام عائشہ بنت الٰہی بخش بمقابلہ عبد الرزاق (مرزائی): فسخِ نکاح کا مقدمہ
مدت
دائر ۲۴ جولائی ۱۹۲۶ء، فیصلہ ۷ فروری ۱۹۳۵ء (۳ ذی قعدہ ۱۳۵۳ھ)
فاتح
شیخ الاسلام علامہ غلام محمد محدّث گھوٹویؒ، شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ بہاولپور
فیصلہ
قادیانی مرتد و خارج از اسلام؛ مسلمان کا قادیانی سے نکاح باطل
جج
منشی محمد اکبر خانؒ (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ)
بعد کی گونج
۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم میں اسی مقدمے کی فائلوں سے استفادہ
فہرست

مرحلہ 1/7 · آغاز· دیباچہ و تعارف

پس منظر اور اہمیت

یہ صفحہ ۱۹۲۶ء تا ۱۹۳۵ء کے بہاولپور مقدمے کی روداد پیش کرتا ہے، جس میں شیخ الاسلام علامہ غلام محمد محدّث گھوٹویؒ نے ختم نبوت کے حق میں پہلا عدالتی فیصلہ حاصل کیا کہ اس کا منکر خارج از اسلام ہے۔

انجمن مؤید الاسلام بہاولپور، جو حضرت گھوٹویؒ نے اسی مقدمے کی پیروی کے لیے قائم کی، نے مقدمے کے مصارف اور بعد ازاں فیصلے کی اشاعت میں نمایاں حصہ لیا؛ یہ تاریخی فیصلہ ۲۵ جولائی ۱۹۳۵ء کو منظرِ عام پر آیا۔

تعارف اور اہمیت

نحمدہ و نصلی و نسلم علیٰ رسولہ الکریم و علیٰ آلہ و اصحابہ و امتہ الی یوم الدینلا نبی بعدی ز احسانِ خدا ست ۔۔۔ پردۂ ناموسِ دینِ مصطفیٰ ست

مقدمہ مرزائیہ بہاولپور میں اجراءِ نبوت کے خلاف اور ختم نبوت کے حق میں پہلا عدالتی فیصلہ صادر کرانا حضرت شیخ الاسلام بحر العلوم علامہ غلام محمد محدّث گھوٹوی قدس سرہ کا عظیم ترین علمی و دینی کارنامہ ہے۔ نو سال کی شبانہ روز کاوشوں اور انتھک جدوجہد سے آپؒ نے یہ مقدمہ جیتا، اور خلقِ خدا سے فاتحِ مرزائیت کا لقب پایا۔

آپؒ کا حاصل کردہ یہ فیصلہ اہلِ اسلام کیلئے ایک مینارۂ نور ہے۔ چنانچہ جب جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی وزارتِ عظمیٰ کے عہد میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ۱۹۷۴ء میں ختم نبوت کا قانون پاس کرنے کا فیصلہ کیا تو بہاولپور سے اس مقدمہ مرزائیہ کی فائلیں منگوائی گئیں اور ان سے استفادہ کرتے ہوئے ختم نبوت کا قانون منظور کیا گیا۔ اسی طرح ۱۹۴۰ء میں ڈیرہ غازی خاں کے مقدمہ مرزائیہ میں بھی محدّث گھوٹویؒ نے اپنا نہایت تفصیلی شہادتی بیان عدالت میں جمع کرایا جس کی وجہ سے وہ مقدمہ بھی اہلِ اسلام کے حق میں فیصلہ ہوا۔

حضرت محدّث گھوٹویؒ کے ہونہار شاگرد قاضی عبید اللہ علویؒ، مفتی ڈیرہ غازی خاں، اس مقدمہ کے پیروی کنندہ تھے۔ جناب شورش کاشمیری مرحوم نے تسلیم کیا ہے کہ ۱۹۳۵ء کے عدالتی فیصلے کے بعد شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا، اور ۱۹۳۵ء کے بعد ہی مرزائیت کا سدِّ باب ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے نعرۂ نبوت کو سہارا دے کر انگریزی استعمار نے امتِ محمدیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے اپنے خواب کو تعبیر دینا چاہی۔

مرحلہ 2/7 · عدالتوں کی روداد· احمد پور شرقیہ تا چیف کورٹ

مقدمے کی ابتداء اور عدالت احمد پور شرقیہ

قصبہ مہند، تحصیل احمد پور شرقیہ، ریاست بہاولپور کے ایک رہائشی مسمّیٰ مولوی الٰہی بخش صاحبؒ نے اپنی بیٹی غلام عائشہ بی بیؒ کا نکاح اپنے ایک رشتہ دار عبد الرزاق سے کر دیا۔ ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ عبد الرزاق مرزائی ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد جب عبد الرزاق کی طرف سے رخصتی کا مطالبہ ہوا تو مولوی الٰہی بخشؒ نے انکار کر دیا اور اپنی بیٹی کی طرف سے تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا۔

پہلے پہل یہ مقدمہ ۲۴ جولائی ۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ کی عدالت میں دائر ہوا (کیونکہ تکفیرِ شخصی کیلئے عدالت سے فیصلہ لینا از روئے شرع ناگزیر ہے)۔ ایک سال تک یہ مقدمہ وہاں زیرِ سماعت رہا؛ حضرت محدّث گھوٹویؒ اس کی پیروی و نگرانی کے جذبے کے تحت وہاں تشریف لے جاتے رہے۔ اس کے بعد، مرزائیوں کی درخواست پر، دیوان مہتہ اودھو داس، جج چیف کورٹ بہاولپور کے حکم نامہ مجریہ ۷ مئی ۱۹۲۷ء کی رو سے یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور میں منتقل ہوا۔

مثل کو دیکھا گیا ہے، منصف صاحب عدالت احمد پور شرقیہ نے شرعی سوالات کے لئے دو مولوی صاحبان کا کمیشن مقرر کیا ہوا ہے، اُدھر مثل پر کئی فیصلہ جات اور سرٹیفیکیٹ پیش کئے گئے ہیں۔ بلحاظِ نوعیتِ مقدمہ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاول پور سے تجویز جاوے۔ ۷ مئی ۱۹۲۷ء۔ دستخط: اودھو داس

اس حکم نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اودھو داس کو عدالت احمد پور شرقیہ کے جج صاحب پر دو تحفظات تھے: ایک یہ کہ انہوں نے دو علماء (مولانا غلام محمد گھوٹویؒ اور مولانا محمد صادق بہاول پوریؒ) کا ایک کمیشن (amicus curiae) قائم کیا ہوا تھا، اور دوسرے یہ کہ انہوں نے علماء کے متعدد شرعی فیصلہ جات و سرٹیفیکیٹ بھی شامل کیے ہوئے تھے۔

ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور (۱۹۲۷ء تا ۱۹۲۸ء)

انجمن مؤید الاسلام کا قیام: جب ۷ مئی ۱۹۲۷ء کو یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور میں پہنچا تو حضرت شیخ الاسلام محدّث گھوٹویؒ نے اس کی پیروی کے لئے انجمن مؤید الاسلام بہاولپور قائم کی، اور انجمن کے ارکان نے آپؒ کو اس کا سربراہ بنایا۔

حضرت گھوٹویؒ کا بیان: آپؒ نے ۱۸ جنوری ۱۹۲۸ء کو ڈسٹرکٹ کورٹ بہاولپور میں پیش ہو کر اپنا مفصل بیان ریکارڈ کرایا جس میں دلائلِ شرعیہ سے ثابت کیا کہ ختم نبوت کا انکار موجبِ خروج عن الاسلام ہے۔ آپؒ نے قرآن، تفاسیر، احادیثِ صحیحہ، اجماعِ امت اور علماء لغت کے حوالوں سے ثابت کیا کہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ مرزا قادیانی نبوت کے منصب پر فائز تھے اور ان پر وحی نازل ہوئی، تو اس کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں، اور اگر ہو چکا ہو تو قائم نہیں رہتا۔

ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جناب منشی محمد اکبر خانؒ (اصل وطن بھیرہ) نے، پٹنہ و لاہور کے ہائی کورٹس کے سابقہ فیصلوں کی پیروی کرتے ہوئے، بامرِ مجبوری ۲۱ نومبر ۱۹۲۸ء کو یہ مقدمہ (غلام عائشہ) خارج کر دیا۔ اس فیصلے سے حضرت گھوٹویؒ اور علماء و عوام کو بہت دکھ ہوا، لہٰذا آپؒ نے چیف کورٹ بہاولپور میں اپیل دائر فرمائی اور مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے تک چین سے نہ بیٹھے۔

چیف کورٹ میں اپیل (۱۹۲۸ء تا ۱۹۳۱ء)

نومبر ۱۹۲۸ء میں حضرت گھوٹویؒ نے ایک نئے انداز اور نرالے استدلال سے یہ مقدمہ لڑنے کا فیصلہ فرمایا۔ علامہ حافظ عبد الرحمٰن جامعیؒ کا بیان ہے کہ حضرتؒ فرماتے تھے: "مجھے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حکم ملا ہے کہ علمِ کتاب اللہ اور علمِ احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر کرو اور ایمان کی طاقت سے مخالفینِ ختم نبوت کو پس پا کر دو۔"

پہلے چیف کورٹ میں ہائی کورٹس پٹنہ و لاہور کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر ہوئی، مگر ابھی زیرِ سماعت تھی کہ ہائی کورٹ مدراس کا فیصلہ بھی آ گیا، اب آپؒ کو اس کے خلاف بھی نبرد آزما ہونا پڑا۔ آپؒ نے فرمایا کہ دیگر مذاہب کی طرح مرزائیت کوئی مذہب نہیں بلکہ دشمنیِ مصطفیٰ ﷺ کا نام ہے؛ یہ فتنہ ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے۔

آپؒ نے تجویز پیش کی کہ اس کیس کو، اس کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے، ہائی کورٹس (پٹنہ، مدراس، لاہور) کے نظائر سے مستثنیٰ قرار دلوانے کے لئے دربارِ بہاولپور، یعنی ریاست کی وزارتی کابینہ کے "اجلاسِ خاص" (بحیثیت عدالتِ معلّیٰ / سپریم کورٹ) کی طرف بھجوایا جائے۔ چنانچہ چیف کورٹ بہاولپور ۱۰ جون ۱۹۳۱ء کو اس تجویز پر رضامند ہو گئی۔ چیف کورٹ کے ارکان تھے: (۱) چیف جسٹس عبد القادر (۲) دیوان مہتہ اودھو داس (۳) مولوی فضل حسین (جن کا سلسلۂ تلمذ بیک واسطہ حضرت گھوٹویؒ تک پہنچتا ہے)۔ اسی روز اپیل (بامرِ مجبوری) مسترد کر کے منشی محمد اکبر خان کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا، مگر کیس بغرضِ استثناء دربارِ معلّیٰ کو بھیج دیا گیا۔

مرحلہ 3/7 · دربارِ معلّیٰ کا اجلاسِ خاص· استثناء و بیان

وزیرِ اعظم سے ملاقات: "بہشت کا سرٹیفیکیٹ"

۱۰ جون ۱۹۳۱ء کو جس وقت چیف کورٹ نے کیس دربارِ معلّیٰ کو بھیجا، دوپہر اور سخت گرمی کا وقت تھا؛ کچھ رفقاء چاہتے تھے کہ اگلی صبح ریاست کے وزیرِ اعظم سردار نبی بخش ولد محمد حسین سندھی سے ملاقات کی جائے، مگر حضرت گھوٹویؒ نے فرمایا کہ میں ابھی اور اسی وقت وزیرِ اعظم سے ملوں گا اور جب تک انہیں قائل نہ کر لوں گھر کا رخ نہیں کروں گا۔

ان دنوں نواب آف بہاولپور موسمِ گرما کی وجہ سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ فریقِ مخالف نے اجلاسِ خاص کو منسوخ یا ملتوی کرانے کی سر توڑ کوششیں شروع کیں تاکہ اپنی بااثر احمدی شخصیات اور انگریز دوستی کے ذریعے نواب تک رسائی حاصل کریں۔

ان ہی دنوں نواب عمر حیات ٹوانہ (والد خضر حیات ٹوانہ) بھی برطانیہ میں تھے۔ نواب آف بہاولپور نے ان سے ذکر کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دباؤ ہے کہ ریاست میں دائر مقدمہ مرزائیہ ختم کرا دوں۔ ٹوانہ نے کہا: ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں مگر اپنے دین، ایمان اور عشقِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ان سے سودا نہیں کر سکتے؛ آپ ڈٹ جائیں اور کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے، میں حق و انصاف میں اس پر دباؤ نہیں ڈالوں گا۔ چنانچہ نواب صاحب نے غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی و عدالتی امور میں مداخلت سے صاف انکار کر دیا۔

سو صفحاتی، دس گھنٹوں کا بیان

یہ مقدمہ لڑنا جان کو جوکھم میں ڈالنے کے مترادف تھا؛ وہ شخصیت صرف حضرت گھوٹویؒ کی تھی جو ہر خطرے کو خاطر میں نہ لائے اور آگے ہی بڑھتے رہے۔ علامہ پروفیسر اللہ بخش قادری ازہریؒ نے "حیاتِ ازہری" میں لکھا: "کوئی آپ کو بحر العلوم کہتا، کوئی امام المعقولات والمنقولات، کوئی امام الہند، کوئی فاتحِ قادیانیت، تو کوئی ضیغمِ اسلام کے لقب سے یاد کرتا۔"

حضرت گھوٹویؒ نے اجلاسِ خاص کے لیے قرآن، احادیث، تفاسیر، شروحِ حدیث، کتبِ فقہ، علم الکلام، اقوالِ ائمہ، کتبِ لغتِ عربیہ اور کتبِ مرزا قادیانی کے حوالوں پر مشتمل ایک مفصل، مدلل مضمون تیار کیا جو تقریباً ایک سو صفحات پر پھیلا ہوا تھا اور جس میں عقیدہ ختم نبوت پر مکمل بحث کی گئی تھی۔ آپؒ کا یہ بیان دس (۱۰) گھنٹوں پر حاوی تھا (بحوالہ معرکہ بہاول پور از پیر زادہ اقبال احمد فاروقیؒ)۔

ریاست کے وزراء کی تعداد آٹھ تھی، اس لیے آپؒ نے اپنے شاگردوں سے اس مضمون کی آٹھ کاپیاں تیار کرائیں تاکہ ہر وزیر کے سامنے ایک کاپی موجود رہے۔ کاپیاں تیار کرنے والوں میں مولانا محمد صادق (نگران)، حافظ صاحبزادہ نصیر الدین، حافظ عبد الرحمٰن جامعی، علامہ رحمت اللہ ارشد اور دیگر شاگرد شامل تھے۔ چنانچہ دربارِ بہاولپور (عدالتِ معلّیٰ) کا اجلاسِ خاص ۲۱ دسمبر ۱۹۳۱ء کو شروع ہوا، وزیرِ اعظم سردار نبی بخش صدارت کر رہے تھے اور تمام وزراء حاضر تھے۔

سورۃ البقرہ کے صفحہ اول سے استدلال

مرزائیوں کی طرف سے جلال الدین شمس اور بیرسٹر اسد اللہ خان (برادر ظفر اللہ خان) نمائندگی کر رہے تھے، جبکہ اہلِ اسلام کی نمائندگی حضرت گھوٹویؒ فرما رہے تھے۔ بیان چونکہ ضخیم تھا، وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپ زبانی کوئی دوٹوک قرآنی دلیل پیش کریں جو ختم نبوت کو ثابت کر دے۔ آپؒ نے فرمایا: قرآن کا ہر ورق ناطق ہے کہ سلسلۂ نبوت و وحی حضور ﷺ پر ختم ہو چکا۔ وزیرِ اعظم نے کہا: قرآن کے ورقِ اول ہی سے ثابت کر دیں۔

آپؒ نے سورۂ بقرہ کے ورقِ اول کی تلاوت کی: ﴿الٓمّٓ۔ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ۔۔۔ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ﴾۔ آپؒ نے فرمایا: اللہ نے وحی کی دو ہی قسموں پر ایمان کا ذکر کیا: ایک جو حضور ﷺ پر نازل ہوئی، دوسری جو آپ سے پہلے۔ اس سے صاف ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کے بعد نزولِ وحی کی کوئی گنجائش نہیں، ورنہ اللہ اس کا ذکر ضرور کرتا۔

دربارِ معلّیٰ کا فیصلہ بابت استثناء (۲۱ دسمبر ۱۹۳۱ء)

دس گھنٹوں کا بیان سن کر عدالتِ معلّیٰ کے ارکان نے متفقہ فیصلہ صادر کیا کہ ہائی کورٹس (پٹنہ، لاہور، مدراس) اور بہاولپور کے ڈسٹرکٹ و چیف کورٹس کے سابقہ فیصلوں میں کماحقہ تنقیح و تحقیق نہیں کی گئی تھی اور اسلام کے بنیادی اصولوں و ضروریاتِ دین کو موضوعِ بحث نہیں بنایا گیا تھا، لہٰذا ان کی پیروی ضروری نہیں۔

قرار پایا کہ اگر کسی شخص کا قادیانی عقائد کے مطابق یہ ایمان ہو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آ گیا اور اس پر وحی نازل ہوئی، تو چونکہ وہ ختم نبوت کا منکر ہے اور یہ عقیدہ ضروریاتِ دین سے ہے، لہٰذا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اجلاسِ خاص نے اس مقدمہ کو، اس کی خصوصی حیثیت کی بناء پر، سابقہ فیصلوں سے مستثنیٰ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ بہاولپور کو از سرِ نو مجاز بنایا کہ وہ علماء کے دلائل کی روشنی میں مقدمے کی از سرِ نو تحقیق کرے۔

مرحلہ 4/7 · ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ و فیصلہ· علماء، جج کا تبادلہ، فیصلہ

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ: چھ علماء کے بیانات

استثناء کے بعد اب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (عرصہ سماعت ۲۵ جنوری ۱۹۳۲ء تا ۷ فروری ۱۹۳۵ء) اس امر میں آزاد ہو گئی کہ اسلامی فیصلہ صادر کرے۔ اوائل ۱۹۳۲ء میں حضرت گھوٹویؒ نے بلا امتیاز، بریلوی اور دیوبندی دونوں مسالک کے علماء کو بہاولپور آنے کی دعوت دی تاکہ عدالت میں بیانات ریکارڈ کرائیں۔ آپؒ کا دولت خانہ سرفروشانِ ختم نبوت کا گڑھ بنا رہا؛ رات رات بھر علماء کا اجتماع رہتا اور صبح یہ کارواں نعرہ ہائے تکبیر کی گونج میں عدالت روانہ ہوتا۔ آپؒ نے ان کی مہمان نوازی اور آمد و رفت کے اخراجات بھی خود اٹھائے۔

فریقِ مخالف کی طرف سے جلال الدین شمس اور غلام احمد مجاہد پیش ہوتے رہے، جبکہ اہلِ اسلام کی طرف سے چھ علماء نے بیانات ریکارڈ کرائے:

  • مولانا غلام محمد محدّث گھوٹویؒ، شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ (بیان ۲۱ جون ۱۹۳۲ء؛ آپؒ نو سال عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، عدالت نے آپؒ کو فاتح قرار دیا)۔
  • مولانا ابو قاسم محمد حسین کولو تارڑویؒ (گوجرانوالہ): بیان ۱۴ جولائی ۱۹۳۲ء۔
  • مولانا مفتی محمد شفیعؒ (دیوبند): بیان ۲۱ اگست ۱۹۳۲ء۔
  • مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ: بیان ۲۱ تا ۲۵ اگست ۱۹۳۲ء۔
  • مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ (ڈابھیل، سورت): بیان ۲۵ تا ۲۹ اگست ۱۹۳۲ء؛ صرف سترہ دن بہاولپور میں قیام کیا، ۲۹ مئی ۱۹۳۳ء کو وفات پائی (فیصلے سے پہلے)۔
  • مولانا نجم الدینؒ، پروفیسر اورئنٹل کالج لاہور: بیان ۳۰، ۳۱ اگست ۱۹۳۲ء۔

مولانا محمد صادقؒ کے بیان کے مطابق، ان تمام بیانات کے دوران حضرت گھوٹویؒ روزانہ ہمہ وقت عدالت میں موجود رہتے اور یاد دہانی، معاونت و نگرانی کا فریضہ انجام دیتے۔ عدالت میں سب سے پہلا بیان آپؒ ہی کا تھا، اور مدعا علیہ عبد الرزاق و اس کے وکلاء کو آپؒ کے بیان پر جرح کی جرأت نہ ہوئی۔

جج کا تبادلہ اور بیرسٹر کے ایل گابا

مرزائیوں کے اثر ورسوخ کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ عین اس وقت جب فیصلہ لکھنے کا مرحلہ آیا، متعلقہ جج منشی محمد اکبر خانؒ کا تبادلہ بطور ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر کر دیا گیا۔ سوال یہ تھا کہ فیصلہ جج اکبر خان لکھیں گے یا نیا جج (جسے دوبارہ سارے دلائل سمجھانے میں لمبا عرصہ لگتا)۔ حضرت گھوٹویؒ کا مؤقف تھا کہ جج اکبر خان ہی فیصلہ لکھیں تاکہ اہلِ اسلام خواہ مخواہ کی زحمت سے بچ جائیں۔

فیصلے میں رکاوٹ کی آخری کوشش: مدعا علیہ عبد الرزاق فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ہی ۱۰ نومبر ۱۹۳۴ء کو اچانک وفات پا گیا۔ مرزائی فرقہ نے اس موت کو غنیمت جان کر ۴ دسمبر ۱۹۳۴ء کو درخواست دی کہ مدعا علیہ فوت ہو چکا ہے لہٰذا فیصلہ کی ضرورت نہیں۔ مگر حضرت گھوٹویؒ ڈٹ گئے اور نظائر سے ثابت کیا کہ فریق کی موت کے باوجود فیصلہ صادر کرنا عدالت پر لازم ہے، کیونکہ یہ مقدمہ بین الاقوامی حیثیت کا حامل ہے۔ عدالت نے آپؒ کے دلائل درست قرار دیے۔

تاریخی فیصلہ (۷ فروری ۱۹۳۵ء) اور نقدِ انعام

الحمد للہ! ۷ فروری ۱۹۳۵ء مطابق ۳ ذی قعدہ ۱۳۵۳ھ کو منشی محمد اکبر خانؒ، ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر نے اس تاریخی مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا اور اعلان کیا:

ختم نبوت کا منکر خارج از اسلام ہے، اور مسلمان خاتون کے ساتھ اس کا نکاح فسخ ہے۔

یہ دن بہاولپور میں جشن کا دن تھا؛ علماء نے شکرانے کے نوافل ادا کیے اور پورے ملک سے حضرت گھوٹویؒ کو تہنیت کے پیغامات بھیجے گئے۔ اسی دن سے آپؒ کے لیے "فاتحِ مرزائیت" کا لقب زدِ خاص و عام ہو گیا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ (بابو جی) نے بھی مبارک باد کا خط بھیجا، جو آپؒ کو مدینہ منورہ میں بوقتِ حاضریِ روضۂ اقدس موصول ہوا۔

مرحلہ 5/7 · علمی مباحث· ختم نبوت و عقائدِ مرزا

جھوٹے مدعیانِ نبوت اور عقائدِ مرزا

امام طحاویؒ کی "مشکل الآثار" کے حوالے سے وضاحت کی جاتی ہے کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کی تعداد بیانِ حصر کے لیے نہیں بلکہ کثرتِ تعداد کے لیے ہے: بعض تو کذاب و دجال دونوں ہوں گے (جن کی تعداد تیس)، مگر بعض صرف کذاب؛ چنانچہ طبرانی کی روایت میں ستر کا عدد بھی آیا ہے۔ ان سب کے آخر میں دجالِ اعظم ظاہر ہو گا۔ ("کذاب" کذب سے، "دجال" دَجل سے مشتق ہے جس کا درجہ کذاب سے اوپر ہے۔)

علماء نے مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات سے اس کے عقائد نقل کیے (حوالہ جات کے ساتھ)، مثلاً: خواب میں اپنے آپ کو "عین اللہ" دیکھنا اور آسمان و زمین کی تخلیق کا دعویٰ (آئینہ کمالات)؛ خدا کے لیے بیٹا ثابت کرنا (حقیقۃ الوحی)؛ قرآن کو "میرے منہ کی باتیں" کہنا (حقیقۃ الوحی، ص ۸۴)؛ انبیاء کرام علیہم السلام (عیسیٰ، موسیٰ، بی بی مریم، حسنینؓ) کی شان میں گستاخیاں؛ اور اپنی برتری کے دعوے۔

ضروریاتِ دین، اہلِ قبلہ، اور باطنیہ

مقدمے کا مرکزی استدلال یہ تھا کہ ضروریاتِ دین ہی سے دین تشکیل پاتا ہے، اور ان کا انکار صاف دین کا انکار ہے۔ عقیدہ ختم نبوت چونکہ متواترات، مسلمات، بدیہیات اور قطعیات میں سے ہے، اس لیے اس کا شمار ضروریاتِ دین میں ہوتا ہے، اور اس کا منکر خارج از اسلام ہے۔ (حوالہ: فتاویٰ شامی، در مختار، الاشباہ والنظائر، شرح فقہ اکبر)۔

اہلِ قبلہ کی اصطلاح: علماء واضح کرتے ہیں کہ "اہلِ قبلہ" سے مراد وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتے ہوں؛ اگر کوئی قبلہ رو ہو کر نماز تو پڑھے مگر کسی ضروریِ دین کا منکر ہو تو وہ اہلِ قبلہ نہیں۔ جیسا کہ منافقین قبلہ رو ہونے اور ظاہری احکام بجا لانے کے باوجود کافر قرار پائے، اور خوارج نماز روزہ کے باوجود دین سے خارج۔ (ملا علی القاری، علامہ شامی، عبد العزیز پرہارویؒ، فتاویٰ عالمگیریہ)۔

فرقہ باطنیہ: مسلمانوں کے دورِ زوال میں بعض بدباطن لوگوں نے قرآن و حدیث کے الفاظ برقرار رکھتے ہوئے ان کے معانی بدل ڈالے اور تحریفِ معنوی کے ذریعے پورے دین کو جھٹلا دیا؛ آجکل یہی فرقہ اپنے آپ کو "سیکولر اور لبرل" کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیثِ نبوی بھی حجتِ قطعیہ اور واجب العمل ہے (﴿وَأَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ﴾)۔

صحابہ کرامؓ کے آثار سے (بحوالہ معانی الآثار، فتح الباری، کنز العمال) ثابت کیا گیا کہ اسلام کے کسی حکم کا انکار کرنے والے زندیق سے پہلے توبہ کا مطالبہ کیا جائے، ورنہ اس کی سزا مقرر ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کا فرمان ہے: "جس نے اسلام کے احکام میں سے کسی کا انکار کیا، اس کے کلمہ گو ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔"

مرزا کا دعوائے نبوتِ تشریعی، اور "الہام، وحی نہیں"

مرزا کی تحریرات تضاد کا شکار ہیں کیونکہ اس نے کئی روپ بدلے: عام مسلمان، پھر مناظرِ اسلام، پھر مجدد، پھر (۱۸۹۱ء میں) حکیم نور دین کے ایماء پر مثیلِ مسیح، پھر عینِ مسیح و امام مہدی، پھر ظلی/بروزی نبی، پھر صاحبِ شریعت رسول اور خاتم النبیین، حتیٰ کہ "عین محمد" اور "عین اللہ" تک۔

علماء نے دلائل سے ثابت کیا کہ مرزا نبوتِ تشریعی کا مدعی تھا (اربعین، حقیقۃ الوحی، دافع البلاء، اعجازِ احمدی، فتاویٰ احمدیہ سے حوالوں کے ساتھ): اس نے اپنی وحی میں اوامر و نواہی کا دعویٰ کیا، اپنے منکرین کو "مسلمان نہیں" کہا، ان سے رشتے ناطے و نماز کو ناجائز ٹھہرایا، اور چندے کو فرض بنایا: یہ سب صاحبِ شریعت ہونے کی علامات ہیں۔

الہام بمقابلہ وحی: جب علماء نے ثابت کر دیا کہ حضور ﷺ کے بعد وحیِ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا، تو فریقِ مخالف نے کہا کہ مرزا کو تو "کشف والہام" ہوتا تھا۔ حضرت گھوٹویؒ و رفقاء نے یہ سازش ناکام بنائی اور ثابت کیا کہ الہام نہ قطعی ہے نہ حجت (علامہ نسفیؒ: "والالهام لیس من اسباب المعرفۃ")۔ اصطلاحِ دین میں الہام کو وحی نہیں کہتے، نہ صاحبِ الہام کو نبی؛ شرعی حکم تو صرف ادلہ اربعہ (کتاب، سنت، اجماع، قیاس) سے ثابت ہوتا ہے۔ صوفیاء کے "شطحیات" بھی قابلِ عمل نہیں۔

عقلِ نارسا، حیاتِ عیسیٰؑ، اور غلامانہ ذہنیت

آخری علمی مباحث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ الی السماء اور نزول کے منصوص عقیدے پر ہیں۔ آج کا "نام نہاد تعلیم یافتہ طبقہ" اسے اپنی نارسائی کی وجہ سے غیر سائنسی سمجھتا ہے، حالانکہ عقل اور قانونِ قدرت (جو استقراءِ ناقص سے عبارت ہے) کا اعتبار صرف اس وقت تک ہے جب تک شارع سے کوئی نصِ مخالف وارد نہ ہو۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے حکیم نور الدین کے سوال کے جواب میں یہی لکھا (مہر منیر: ص ۲۰۹): شریعت عقل پر حاکم ہے۔

قرآن میں ایک شخص کو سو سال بعد زندہ کرنے کا واقعہ، اصحابِ کہف کا تین سو سال سے زائد زندہ رہنا، جسمانی معراج، اور احیاءِ موتیٰ سب موجود ہیں؛ لہٰذا حضرت عیسیٰؑ کا دوبارہ بھیجنا اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی کتب "شمس الہدایۃ" اور "سیف چشتیائی" اس مسئلے پر فیصلہ کن ہیں۔

مرحلہ 6/7 · ورثہ اور ۱۹۷۴ء· آئینی ترمیم

عقیدہ ختم نبوت، آئین میں: ۱۹۷۴ء

۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحفظِ ختم نبوت کا جو قانون منظور ہوا، اس کے لیے اسمبلی میں جدوجہد کرنے والے علماء کو دو دستاویزی بنیادیں دستیاب تھیں: (۱) حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کا علمی و روحانی کارنامہ یعنی "معرکہ لاہور" اور آپؒ کی تصانیف؛ اور (۲) شیخ الاسلام علامہ غلام محمد محدّث گھوٹویؒ کا کارنامہ یعنی "مقدمہ مرزائیہ بہاولپور" کا عدالتی فیصلہ (۷ فروری ۱۹۳۵ء)، جس نے اہلِ اسلام کو مرزائیت کے خلاف مضبوط ترین بنیاد فراہم کی۔

قانون کی منظوری کے بعد متعدد وفود اسلام آباد سے گولڑہ شریف تشریف لائے اور حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف اور حضرت گھوٹویؒ کے بڑے صاحبزادے شیخ الحدیث مفتی حافظ محمد عبد الحی الچشتی القادریؒ سے ملاقات کر کے مبارک باد پیش کی کہ آپ کے آباء کرامؒ کی کاوشوں کا پھل اب آئینی دفعہ کی شکل میں امتِ محمدیہ کو حاصل ہو رہا ہے۔ ان وفود میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور (علیحدہ وفد میں) مولانا شاہ احمد نورانیؒ شامل تھے۔

مرحلہ 7/7 · منظوم خراجِ عقیدت· منقبت و قطعہ

منقبت اور قطعہ تاریخِ وصال

آخر میں حضرت گھوٹویؒ کے صاحبزادے شیخ الحدیث مفتی اعظم علامہ الحافظ محمد عبد الحی الچشتی القادریؒ کی منقبت اور آپؒ کی تاریخِ وصال (۱۹۴۸ء) پر ایک قطعہ درج ہے۔

ذات ان کی جامعِ علم و عمل ۔۔۔ مصطفیٰ کے عشق کی ہرگز نہیں ہے کوئی حدسارے عالم کو دکھائی سیدھی راہ ۔۔۔ نیز چشتی کو سُجھایا سب نیک و بد
مسندِ تدریس کے تھے بادشاہ ۔۔۔ ان سے قائم دینِ حق کا تھا وقارفاتحِ مرزائیت تھے بالیقین ۔۔۔ اس حقیقت سے نہیں ممکن فرارعلم کے تھے بحرِ ناپیدا کنار ۔۔۔ تھے رموزِ عشق کے وہ رازدار

قطعہ تاریخِ وصال میں "قدرِ علوم و نابغۂ روزگار" کے الفاظ سے سالِ وصال (۱۹۴۸ء) نکالا گیا ہے۔ (شاعر: سیّد عارف محمود، مہجورؔ رضوی، گجرات۔)

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مقدمہ مرزائیہ بہاولپور کیا تھا؟

یہ ایک فسخِ نکاح کا مقدمہ تھا (دائر ۲۴ جولائی ۱۹۲۶ء) جس میں مسلمان خاتون غلام عائشہ نے قادیانی ہو جانے والے شوہر کے نکاح میں رہنے سے انکار کیا۔ شیخ الاسلام محدّث گھوٹویؒ نے نو برس اس کی پیروی کی یہاں تک کہ ۷ فروری ۱۹۳۵ء کو عدالت نے فیصلہ دیا کہ قادیانی مرتد و خارج از اسلام ہیں اور مسلمان کا قادیانی سے نکاح باطل ہے۔

اس مقدمے کا ۱۹۷۴ء سے کیا تعلق ہے؟

جب ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا تو بہاولپور سے اسی مقدمے کی فائلیں منگوا کر ان سے استفادہ کیا گیا۔

۱۹۳۵ء کا فیصلہ کس جج نے لکھا؟

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج منشی محمد اکبر خانؒ نے۔ (انہوں نے ۱۹۲۸ء میں ہائی کورٹ نظائر کے تحت مقدمہ خارج کیا تھا، مگر دربارِ معلّیٰ سے استثناء ملنے کے بعد ۱۹۳۵ء میں اہلِ اسلام کے حق میں تاریخی فیصلہ لکھا۔)

قرآنی حوالہ جات

حوالہ جات

  1. شیخ الاسلام غلام محمد محدّث گھوٹوی (سوانح): اسی سائٹ پر متعلقہ مضمون
  2. عیسیٰ علیہ السلام: زندہ اٹھائے گئے اور واپس آئیں گے: متعلقہ عقیدہ مضمون